کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟

(اگست ۲۰۱۴ میں وطنِ عزیز کی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں لکھی گئی)

کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟
کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی؟
کس میں جرات ہے سر اٹھانے کی؟
کون باغی تمھاری ذات سے ہو؟
کس ستمگر کو جان پیاری نہیں؟

"جان ہے تو جہان ہے پیارے”
لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں
کہ کسی روز وقت آئے گا
ایک لشکر مسرتوں کا لیے
اور تہِ تیغ کر کے رکھ دے گا
غم کی فوجوں کو، قہر کے دَل کو
اور یہ بے نشان قیدی بھی
اسی جھولے میں چھوٹ جائیں گے
سلسلے دکھ کے ٹوٹ جائیں گے

تم مگر فکر مت کرو جاناں
یہ تو لالچ ہے زندہ رہنے کا
خواب ہے مردہ ظرف لوگوں کا
وقت مظلوم کا نہیں ہوتا
تم پریشان مت ہو جانِ جاں

تم سے منہ کون موڑ سکتا ہے؟
کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟

راحیلؔ فاروق

۲۵ اگست ۲۰۱۴

ایک رائے “کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟”

تبصرہ کیجیے