کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے

کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے
کبھی ان سنی بھی سنا کیجیے

دعائیں بھی لے لوں گا گر جی گیا
مرا جا رہا ہوں، دوا کیجیے

نئے وعدے کا شکریہ، مہرباں
پرانا بھی کوئی وفا کیجیے

محبت وراثت نہ تھی آپ کی
یہ قرض آپ پر ہے، ادا کیجیے

غزل جانتا ہے زمانہ اسے
تڑپ جائیے تو صدا کیجیے

نگہ ہے کہ فتنہ؟ ادا ہے کہ حشر؟
کرم کو ستم سے جدا کیجیے

کبھی ان کی منت، کبھی دل پہ جبر
کوئی بھی نہ مانے تو کیا کیجیے؟

در ان کا ہے راحیلؔ، انھی کے ہیں آپ
حضور، آپ بیٹھے رہا کیجیے!

راحیلؔ فاروق

2 آرا و خیالات “کبھی ان کہی بھی کہا کیجیے”

تبصرہ کیجیے