تجھے دیکھا، غزل نئی لکھی

تجھے دیکھا، غزل نئی لکھی
ایک پڑھ لی تو دوسری لکھی

حسن کو جانتا بھی تھا، جس نے
میری قسمت میں عاشقی لکھی؟

دل پہ تھا قرض تیرے ہونٹوں کا
ہم نے جو بات بھی سنی، لکھی

تو نے پھر سے بدل دیے کردار؟
یا کہانی ہی دوسری لکھی؟

نقشِ عالم برا بھلا کھینچا
لوحِ محفوظ پائے کی لکھی

دلِ ناداں کو باندھ رکھ راحیلؔ
ساری دنیا ہے اب پڑھی لکھی

راحیلؔ فاروق

3 آرا و خیالات “تجھے دیکھا، غزل نئی لکھی”

تبصرہ کیجیے