ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے

ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے
نیت تو باندھ سکتے ہیں پیچھے امام کے

قدموں میں دیں جگہ ہمیں اہلِ کرم کہیں
ہم راندگاں ہیں سجدہ‌گہِ خاص و عام کے

آنکھوں کی بات چھڑ گئی باتوں کے درمیان
مے‌خانے والے رہ گئے پیمانے تھام کے

واعظ کو اونچ نیچ محبت کی کیا پتا
یہ مسئلے نہیں علمائے کرام کے

کیا خوب وحی پیرِ خرابات کو ہوئی
جھگڑے ہیں سب حرام حلال و حرام کے

دو چار اشک حال پہ میرے بہائیے
شبنم گرے لبوں پہ کسی تشنہ‌کام کے

آتا نہ ہو برات ستاروں کی لے کے چاند
رخسار سرخ کیوں ہوئے جاتے ہیں شام کے

انسان ہیں فرشتہ و ابلیس ہم نہیں
قائل نہیں رکوع و سجود و قیام کے

اہلِ زمانہ ان سے نہ باندھیں توقعات
عشاق آدمی ہیں حسینوں کے کام کے

شہرِ بتاں میں ہیں جو درِ مے‌کدہ پہ دفن
پہنچے ہوئے بزرگ تھے راحیلؔ نام کے

راحیلؔ فاروق

* یہ غزل شاعر کی آواز میں سنیے۔

تبصرہ کیجیے