میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے

میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے
آنکھ اٹھا کے دیکھ ذرا، خود تو نے قیامت کیا ڈھائی ہے

ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے
پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے

شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!”

قہر نہیں یہ دَورِ فلک کا، ظلم نہیں کچھ محبوبوں کا
دل خود درد کا دیوانہ ہے، درد بھی دل کا شیدائی ہے

جب جب فیضِ تیرہ شبی سے اہلِ ہنر کے دل لرزے ہیں
اپنی گرمئِ فکر ہزاروں شمعیں روشن کر لائی ہے

شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
پر ظالم سودائی ہے اور سودائی پھر سودائی ہے!

راحیلؔ فاروق

4 آرا و خیالات “میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے”

تبصرہ کیجیے