آدمی تھے خس و خاشاک نہ تھے

آدمی تھے خس و خاشاک نہ تھے
ہم ترے پاؤں میں تھے خاک نہ تھے

سجدہ گاہیں تری املاک سہی
مرے سجدے تری املاک نہ تھے

نفسِ ناپاک نے ناپاک کیا
ورنہ ہم اصل کے ناپاک نہ تھے

پکڑی میخانے سے مسجد کی راہ
رند بےباک تھے چالاک نہ تھے

تم تصور میں دل افگاروں کے
تھے مگر اتنے بھی سفاک نہ تھے

دل بھی دیوانے کا دیکھا ہوتا
چاک سب زینتِ پوشاک نہ تھے

شہر میں میرے جنوں سے پہلے
لوگ یوں صاحبِ ادراک نہ تھے

آہ نے راہ دکھائی راحیلؔ
اس قدر دور بھی افلاک نہ تھے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے

ایک رائے “آدمی تھے خس و خاشاک نہ تھے”