دین اور دکان

چوروں کی جنت امیر کا گھر ہوتا ہے۔ ڈاکو تگڑوں کو پڑتے ہیں خواہ کچھ پائیں خواہ نہ پائیں۔ ٹھگ اسی کو تاڑتے ہیں جس کی جیب ابھری ہوئی نظر آتی ہے۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو وہ لٹنے کے خوف سے نچنت رہتا ہے۔ بقولِ آتشؔ:

طبل‌و‌علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک‌و‌مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

اس حقیقت سے یوں تو کسی کو اختلاف نہیں مگر ممکن ہے بہت سے لوگ بھڑک جائیں اگر میں اسے مذہب پر منطبق کروں۔ بہر‌حال، حقیقت یہی ہے کہ مذہب کے ساتھ بعینہٖ یہی کھیل روزِ‌اول سے ہوتا آیا ہے۔ معاشرے کا کاروباری طبقہ جب دیکھتا ہے کہ ایک قوت جو اصلاً کاروباری نہ تھی معاشرے کو تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے تو وہ اسے اپنے تصرف میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ تاریخ کے اوراق الٹیے تو یہ داستان آپ کو ہر صفحے پر بکھری نظر آئے گی۔ انجیل اٹھائیے تو جنابِ عیسیٰ اپنے معاشرے میں اسی طبقے کے خلاف بر‌سرِ‌پیکار نظر آئیں گے۔ قرآن پڑھیے تو یہی ماتم نظر آئے گا کہ لوگ خدا کی آیات کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں۔

مارکس کو اقبالؒ نے یونہی پیغمبرِ‌بے‌جبرئیل نہیں کہا تھا۔ موصوف کی باتوں میں بڑی حقیقت ہے۔ معاش انسانی سماج کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اتنا بڑا کہ ہمارے رسولؐ کو کہنا پڑا کہ قریب ہے کہ مفلسی کفر تک پہنچا دے۔ قرآن کو جتا دینا پڑا کہ اولاد کی طرح مال بھی فتنہ ہو سکتا ہے۔ ہے کوئی مائی کا لال جو ان حقائق کو جھٹلا سکے؟ کہہ سکے کہ ایمان کی دولت کو انسان کی حرص‌و‌آز اور مادہ‌پرستی سے کوئی خطرہ نہیں؟ شاید کوئی نہیں۔

اب ہوتا یوں ہے کہ مال کی آزمائش دو صورتوں میں انسان پر پڑتی ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ روپے‌پیسے کی خاطر مذہب کو فراموش کر دے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور اپنی جہالت کے سبب اس دنیا کی عارضی زندگی کی خاطر دین کی نعمت سے دست‌بردار ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت اس سے زیادہ مکروہ ہے۔ اور یہ معاشرے میں کم لوگ اختیار کرتے ہیں مگر بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جب کوئی شخص خود مذہب کو بیچ کر اپنا پیٹ پالنا شروع کر دے۔ اس رویے کے پیچھے نہ صرف مال‌و‌زر کی ہوس کار‌فرما ہوتی ہے بلکہ اقتدار کی خواہش بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔

پہلی صورت عوام اختیار کرتے ہیں اور مذہب سے تقریباً بے‌گانہ ہو جاتے ہیں۔ دوسری صورت خواص اختیار کرتے ہیں اور مذہب کو اپنا اوڑھنا‌بچھونا بنا لیتے ہیں۔ دونوں کا رویہ مذموم ہے مگر دوسری صورت زیادہ قابلِ‌نفرت ہے کیونکہ اس سے معاشرے کو اور خود مذہب کو نا‌قابلِ‌تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ پنڈتوں، پادریوں، ربیوں اور ملاؤں وغیرہ کی اکثریت زوالِ‌مذہب کے دور میں اسی رویے پر کار‌بند دیکھی جاتی ہے۔

جس طرح استعمار اور استحصال کا ہر نظام عوام کو الو بنانے کے لیے باقاعدہ ایک منطق تشکیل دیتا ہے اسی طرح یہ خدا‌فروش مذہبی رہنما بھی وہ دلائل گھڑتے ہیں جو لوگوں کو کسی خوف یا لالچ کے تحت ان کی اتباع پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یورپیوں نے جب اپنے وطنوں سے نکل کر دنیا پر تاخت کی تو اس بہانے سے کی تھی کہ جنابِ عیسیٰؑ کا پیغام ہر جگہ پہنچانا اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانا مقصود ہے۔ اس نظریے کی گونج آج بھی ہمیں گاہے گاہے سنائی دے جاتی ہے۔ سرمایہ‌دارانہ نظام کے نمائندہ کاروباری ادارے انسان کو اپنے جسم، رنگ اور ثقافت وغیرہ سے متنفر کرنے کے لیے رنگ‌برنگی اور خوش‌نما منطقیں تراشتے ہیں تاکہ ان کی دوائیں، غازے اور کھانے بک سکیں۔ بالکل اسی طرح مذہب‌فروش رہنما جب دین کی نسبت کوئی دلیل دیتا ہے تو اس کا مقصد ہدایت نہیں بلکہ عوام کو اپنا محتاج کرنا ہوتا ہے۔ اور یہی ان سب دکان‌آراؤں کی مشترکہ پہنچان ہے کہ ان کی ہر برہانِ‌قاطع بالآخر انھی کے فائدے پر منتج ہوتی ہے۔

آج کل ایک عجیب دلیل ہمارے معاشرے میں ان ابلہ‌فریبوں نے گھڑ لی ہے۔ لوگوں کو اپنے خونیں پنجے میں جکڑنے کے لیے یہ ظالم دین کے ٹھیکے‌دار بن بیٹھے ہیں۔ منطق یہ ہے کہ ہر میدان کا ایک اپنا نصاب اور تعلیم ہوتی ہے اور جو اس سے نہ گزرے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً ایک طبیب پر لازم ہے کہ اس نے طب پڑھی ہو اور اس کے امتحانات میں کامیاب ہوا ہو۔ ورنہ اس سے علاج کروانا جان کا زیاں ہے۔ اسی طرح ایک درزی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کپڑے سینے کا فن باقاعدہ کسی استاد سے سیکھ کر فارغ‌التحصیل ہوا ہو۔ ورنہ اس سے کپڑے سلوانا بے‌سود ہے۔ حق یہ ہے کہ یہ دلیل اس حد تک بالکل درست ہے اور اسے تسلیم کرنے میں کسی سلیم‌الفطرت شخص کو باک نہیں ہو سکتا۔

اصل کھیل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں یہ فریبی اس دلیل کو مذہب پر ٹھونس دیتے ہیں اور اس طرح اپنے اقتدار کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ فرمایا جاتا ہے کہ عمومی معاملاتِ‌دنیا میں جس طرح تخصیص ضروری ہے اسی طرح مذہب کے معاملے میں بھی صرف خاص خاص لوگ ہی کچھ کہنے کرنے کے مجاز ہو سکتے ہیں۔ عوام چونکہ جہلا کے ایک گروہ کا نام ہے اس لیے انھیں اس دام میں آنے میں دیر بھی نہیں لگتی۔ پیروں فقیروں سے لے کر علما‌و‌فضلا تک سبھی کا کاروبار ایک اسی دھوکے پر قائم ہو جاتا ہے۔ لوگ خود بھی سر ٹیکتے ہیں، دوسروں کو گھیر گھیر کے لاتے بھی ہیں اور نہ جھکنے والوں سے جھگڑتے بھی ہیں۔

اس دلیل کی غلطی اکثر دلائل کی طرح یہ ہے کہ اسے غلط جگہ منطبق کر دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ دلیل صرف معاشرے کے خارجی معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔ طبیب، درزی، موچی وغیرہ کی حد تک بالکل درست ہے اور اس اصول سے کام نہ لینے والا لازماً نقصان اٹھاتا ہے۔ مگر انسان کے داخلی معاملات سے اس کا ہرگز کوئی لینا‌دینا نہیں۔ مثلاً کوئی شخص مجھ سے کہے کہ میاں، تم اپنی ماں سے کیا خاک محبت کرتے ہو؟ ماں سے محبت کرنے کا ماہر، فارغ‌التحصیل اور متفق علیہ استاد وغیرہ فلاں فلاں شخص ہے۔ جب تک اس کی طرح نہ کرو گے تمھاری محبت محبت نہیں ہے۔ تو میں اس سے کیا کہوں گا؟

ان ظالموں نے اپنے کاروبار کو چمکانے کی غرض سے دین جیسے داخلی اور صریح نیت پر مبنی معاملے کو بھی ایک پیشے اور دھندے کی سی حیثیت دے دی ہے جس کے ماہرین سے رجوع لانا ہر صورت میں ضروری ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دین کے ظاہری پہلو اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور اصلیت، خلوص اور دیانت‌داری مفقود ہو گئے ہیں۔ کیوں نہ ہوتا؟ جب ہر بات کے لیے کسی نہ کسی قل‌اعوذئیے کی پیشہ‌ورانہ مہارت پر بھروسا کیا جائے گا تو مذہب معاش کی طرح محض ایک سماجی معمول ہی رہ جائے گا۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کبھی کسی فلسفی کو اس بنا پر رد نہیں کیا گیا کہ اس نے فلسفے کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ کسی کھلاڑی کو اس لیے نالائق قرار نہیں دیا گیا کہ وہ کسی خاص اکادمی سے کھیلنا نہیں سیکھا۔ کسی ادیب پر اس لیے لعنت نہیں کی گئی کہ اس نے ادب میں پی‌ایچ‌ڈی کیوں نہ کی۔ کسی عاشق کو اس لیے عاشق ماننے سے انکار نہیں گیا کہ اس نے تو لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا، سسی پنوں، رومیو جولیٹ کے قصے ہی نہیں پڑھ رکھے۔ گویا بنیادی نصاب ہی سے ناواقف ہے۔ ایسا کبھی نہیں کیا گیا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ فلسفی کی عقل، کھلاڑی کا شوق، ادیب کا ذوق اور عاشق کا عشق داخلی معاملے ہیں جو پڑھنے لکھنے اور دوسروں سے ہدایت لے کر آگے بڑھنے کے محتاج نہیں۔

پھر کیا وجہ؟ کیا وجہ کہ دین جو ہر شخص کا ذاتی اور داخلی معاملہ ہے اور جس کے سلسلے میں ہر مذہب کی تعلیم یہی ہے کہ تمھاری اپنی نیت اور اپنی محنت تمھارے کام آنے والی ہے، اس پر کچھ ٹھیکے‌دار یوں جم کر بیٹھ جائیں اور ہم زر‌خرید غلاموں کی طرح اپنے باطن کی سچائی کو ان کے آستانۂِ ہوس کی بھینٹ چڑھا دیں؟ وہ کہیں کہ تم ایمان‌دار ہو تو ہم خوش ہوں۔ کہیں کہ بے‌ایمان ہو تو ہماری تھرتھری چھوٹ جائے۔ کہیں کہ تمھارا دین درست ہے تو ہم ناچتے پھریں۔ کہیں کہ تم بے‌دین ہو گئے ہو تو ہم ان کے پاؤں پڑ جائیں۔ کہیں کہ تم جنتی ہو۔ کہیں کہ تم دوزخی ہو۔ کہیں تم اچھے ہو۔ کہیں تم برے ہو۔ یہ مقام ان نو موری والے بے‌بضاعت انسانوں کا ہے یا خدا کا کہ ہمارے ایمان اور سچائی کا فیصلہ کرے؟

یہ مقام خدا کا ہے۔ اور اسی کے پاس رہے گا۔ مگر جیسے دنیا میں اور بہت سے امتحان ہیں اسی طرح یہ بھی محض ایک آزمائش ہے کہ مذہب‌فروشوں نے اپنی اپنی دکانیں کھول لی ہیں اور لوگوں کو خدا کے نام پر اپنے آگے جھکانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ فرعون کی داستانیں سنا رہے ہیں اور خود خدا بنے بیٹھے ہیں۔ آج ہم نے ایک دلیل کو رد کیا ہے۔ کل دوسری گھڑ لیں گے۔ فارسی میں کہتے ہیں کہ سلامِ روستائی بے‌غرض نیست۔ یعنی دیہاتی کا سلام بے‌مدعا نہیں ہوتا۔ کوئی نہ کوئی مقصد ضرور اس کے پیچھے ہوتا ہے۔ عقل والوں کے لیے نشانی یہی ہے کہ جب کسی مذہبی رہنما کی کسی خوش‌نما، عرفان‌آمیز، معقولی‌و‌منقولی، متفق‌علیہ وغیرہ دلیل سے خود اسی کا فائدہ ہوتا نظر آئے تو ہوشیار ہو جائیں۔ ہمیشہ دھوکا شاید نہ ہو مگر اکثر ہو گا۔

تبصرہ کیجیے