راہبر ہے مگر بھٹکتا ہے

راہبر ہے مگر بھٹکتا ہے
یہ غضب کر ہی عشق سکتا ہے

دل کہاں سینے میں دھڑکتا ہے
کوئی دیوانہ سر پٹکتا ہے

آنکھ کو اب تو کر نہ کر سیراب
یہ سبو خود بخود چھلکتا ہے

عشق جب منبروں پہ چڑھ بیٹھے
سچ کہے تو بھی جھوٹ بکتا ہے

منزلوں کی خبر ہی آ جاتی
راہرو تھک کے راہ تکتا ہے

کیا تمھارے نہ دیکھنے کا گلہ
جسے دیکھو وہی سسکتا ہے

وہ گلستان ہے وفا جس میں
گل دھڑکتے ہیں دل مہکتا ہے

تیرے کوچے میں انتظار سہی
بیٹھنے سے بھی کوئی تھکتا ہے

باغ برباد ہو چکا لیکن
ایک کانٹا ابھی کھٹکتا ہے

کیا ستارہ ہے بخت کا راحیلؔ
جب بھڑکتا ہے تب چمکتا ہے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے