بر رسولاں بلاغ است و بس

جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں، ابلاغ دورِ جدید کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ ہر شخص کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق تسلیم کیا جاتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے رفتہ رفتہ عوام میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا جوش بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ عقلِ سلیم اس اس شورا شوری میں ہمیں کچھ انوکھے حقائق سجھاتی ہے جن کی حتی المقدور پردہ دری کا بیڑہ میں نے آج اٹھایا ہے۔

صاحب، پہلے تو یہ دیکھیے کہ ابلاغ یا اپنی بات دوسروں تک پہنچانا اپنی نوعیت میں ہے کیا؟ میں آپ سے جو یہ گفتگو کر رہا ہوں، اس میں چند اہم باتیں آپ میں اور مجھ میں مشترک ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ بھی اردو سمجھتے ہیں۔ آپ کو بھی عصرِ حاضر کے مسائل پر تفکر کی عادت ہے۔ آپ بھی امید کرتے ہیں کہ فکر و  تدبر سے شاید ہماری زندگی  کے مسائل نکل آئے۔ یہ سب اقدارِ مشترکہ بالکل سرسری ہیں اور بغیر زیادہ غور کیے معلوم ہو سکتی ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اور بہت سی باتیں ہمارے آپ کے بیچ مشترک ہیں جن کا تفصیلی بیان نفسیات، معاشرتی علوم وغیرہ کے ماہرین کے میدان سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے کام کی بات یہ ہے کہ آپ جو میری بات کو سمجھ رہے ہیں تو یہ امر کاملاً انھی اقدارِ مشترکہ کا مرہونِ منت ہے جو ہمارے درمیان غیرمحسوس طور پر موجود ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو بیچ سے نکال دیجیے اور ہمارا آپ کا رابطہ منقطع!
سو ابلاغ کے مؤثر ہونے کے لیے متکلم اور سامع یا مصنف اور قاری وغیرہ کے درمیان پہلے سے طے شدہ کچھ اصولوں کا  موجود ہونا ضروری ہے جن کے توسط سے دونوں کا ایک دوسرے سے ربط قائم ہوتا ہے۔ ان اصولوں کو ہم سہولت کی خاطر ایسی پگڈنڈیاں خیال کر سکتے ہیں جن پر چل کے دو اذہان ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔ ان چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں کے ساتھ ساتھ ایک نہایت صاف ستھری سی سڑک بھی چلتی ہے۔ یہ سڑک منطق کی ہے۔ جس قدر کسی شخص کا ذہن انتشار سے پاک ہو گا، اسی قدر اس کی منطق کی سڑک ہموار اور ستھری ہو گی، گو یہ قطعی طور پر ضروری نہیں کہ یہ سڑک اسے منزلِ مقصود تک بھی لے جائے۔ جب کوئی دو شخص ایسے ملتے ہیں جن کی منطقیں کہیں ایک دوسری سے لگا کھاتی ہوں تو ان کے درمیان مکالمہ بارآور ثابت ہونے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔
صاحب منطق نام ہے ایک ترازو کا جس میں آپ حق اور باطل کو تولتے ہیں۔ یہ ترازو ہم سب کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ ہم معاملاتِ زندگی کو اس سے جانچتے رہتے ہیں، جانچتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی خوش نصیب کے ساتھ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک جنس کو تول چکنے کے بعد دیکھتا ہے کہ کسی اور کے ترازو میں اسی جنس کی اسی مقدار کا وزن کچھ اور ہے۔ یہاں سے اس کے نصیب پھوٹتے ہیں۔ وہ ترازوؤں کو تولنے لگتا ہے اور یوں ایک بڑے ترازو، یعنی باقاعدہ علمِ منطق کی بنیاد پڑتی ہے۔
علمِ منطق یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کے فکری مسائل کو غیر متنازعہ طور پر انجام تک پہنچائے۔ اس کوشش کی راہ میں ایک عام رکاوٹ ہماری ذاتی، داخلی منطقیں ہوا کرتی ہیں جن کے ایک پلڑے میں ہمارے جذبات کا نادیدہ بوجھ دھرا رہتا ہے۔ عام انسان تو کجا، ماہرینِ منطق کا بالاتفاق کہنا ہے کہ اس بوجھ سے خود ان کے اکابر بھی پنڈا نہیں چھڑا سکتے۔ مگر ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ منطق کو اپنے مسائل پر محاکمہ کا اختیار دینے سے یہ لازم آتا ہےکہ ان مسائل کا حل قابلِ اظہار بھی ہو۔ اور عمرِ عزیز کے اہم ترین مسائل اور ان کے حلوں کا منطقی اظہار ممکن نہیں ہوتا!
بندہ پرور! میں کل بہت خوش تھا۔ طبیعت میں ایک ناقابلِ بیان مسرت اور سرمستی کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔ وجہ ذاتی سی تھی۔ میں گھر سے نکلا، بازاروں میں گھوما، دوستوں سے ملا، گپیں ہانکیں، سارا دن گزر گیا اور میں گھر آ کرسو گیا۔ کتنی مزے کی بات ہے کہ میں اپنی خوشی کا عشرِ عشیر بھی اپنے ان دوستوں کومنتقل نہ کر سکا جن کی محبوبائیں ان سے روٹھی ہوئی تھیں۔ اور زیادہ غورطلب یہ بات ہے کہ جن اجنبیوں سے میری بازار میں سلام دعا ہوئی، میں چاہتا بھی تو انھیں اپنی مسرت میں کماحقہ شریک نہ کر سکتا۔ وجہ؟

2 آرا و خیالات “بر رسولاں بلاغ است و بس”

تبصرہ کیجیے