اردو ادب اور نقد و نظر

صاحبو، میں کوئی بہت پڑھا لکھا شخص نہیں ہوں۔ ضروری نہیں کہ میری باتیں آپ کو نہایت معقول اور صائب معلوم ہوں۔ مگر مجھے ایک طویل عرصہ فلسفہ و ادب کے میدانوں میں آوارگی کے بعد اپنی جستجو کی ثمر آوری اور صداقت شناسی پر کسی قدر اعتماد نصیب ہوا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی کچھ باتوں پر اپنی رائے کا اظہار فائدہ مند معلوم ہوتا ہے۔ میرے  ایک بہت پسندیدہ فلسفی شوپن ہاؤر نے ایک نہایت عمدہ بات کہی تھی جس کی صداقت کو میں نے جس قدر پرکھا ہے اسی قدر اس پر ایمان بڑھتا چلا گیا ہے۔ موصوف نے فرمایا تھا کہ آپ حق کو کبھی دوسروں کے لیے تلاش نہیں کر سکتے۔ آپ کو حقیقت کی تجلی صرف تبھی نصیب ہو گی جب آپ اس کی جستجو خالصتاً اپنی ذات اور اپنے فائدے کے لیے کریں گے۔ دوسروں کو دکھانے کے لیے، کسی سے حسد میں، مسابقت میں، خوشامد میں،، کسی کی ہمدردی میں، کسی اور کی خاطر، بھلے وہ آپ کے والدین ہی کیوں نہ ہوں، اگر آپ کائنات کے بھید ڈھونڈنے نکلیں گے تو کبھی کچھ حقیقی منفعت نہ پائیں گے۔ اگر ملے گا تو صرف تب جب آپ کی جستجو کا محور صرف اپنی ذات، صرف اپنے بلند تر فائدے کا لالچ ہو گا۔ لہٰذا ہمیں اپنی ارفع جستجوؤں یعنی مذہبی، روحانی اور فکری وغیرہ معاملات میں صرف اپنا طمع کرنا چاہیے۔ اس رمز کی تفہیم ممکنہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے شاید تھوڑی تفصیل کی متقاضی ہو، مگر اسے پھر کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔

میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ ادب کے بہت سارے معاملات کو میں نے مشاعروں، محفلوں، مجلسوں اور چائے خانوں وغیرہ کی نکتہ سنجیوں کے لیے پڑھنے کی بجائے خالص اپنے مفاد کے لیے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ ادیب اپنے کارناموں کی تفہیم و تعبیر کے لیے رفتہ رفتہ ناقد کا محتاج ہوتا چلا گیا ہےاور ناقد کی توانائیاں آہستہ آہستہ خالص ادب سے حظ اندوزی اور جستجوئے مسرت سے ہٹ کر فلسفے کے دقیق اور غیر عوامی رموز پر مرکوز ہوتی چلی گئی ہیں۔ یہ دونوں باتیں شاید بظاہر کوئی تعلق نہ رکھتی ہیں مگر بباطن ان کے درمیان ایک ایسا لزوم ہے جسے تاریخ بارہا اہلِ نظر کے لیے منکشف کر چکی ہے۔

ایک بڑے فنکار کی مثال اس شیر کی ہے جو جنگل کے گوشے گوشے پر حکمران ہوتا ہے۔ جہاں چاہتا ہے بسیرا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے دبوچ لیتا ہے۔ ناقدین اس کے عہد میں لومڑیوں اور لگڑ بھگوں کی طرح موجود ہوتے ہیں۔ اس سے ڈرتے ہیں۔ اس کے شکار کا بچا کھچا کھاتے ہیں۔ اس سے بھاگتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے۔ شیر بوڑھا ہوتا ہے۔ مر جاتا ہے۔ طفیلیے راج کرنے لگتے ہیں۔ شیر کی ہڈیاں تک چبا جاتے ہیں۔ پھر ایک شیر آتا ہے۔ پھر لومڑیوں سہم جاتی ہیں۔ پھر شیر مرتا ہے۔ پھر لگڑبھگے شیر ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ باریاں آتی جاتی رہتی ہیں۔

اس مثال سے میرا مقصود ناقدین کی ناقدری نہیں۔ روئے سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ! مدعا صرف یہ نکتہ پیش کرنا ہے کہ ادیب اور ناقد کے تعلق میں ناقد دراصل ادیب کا محتاج ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ یوں جھگڑا ختم نہیں ہو گا۔ ناقدین تو ادیب کو اپنا محتاج خیال کرتے ہیں۔ وہ ادب کی شرح نہیں کریں گے، حاشیے نہیں لکھیں گے، تجزیے نہیں کریں گے تو عوام فن کی قدر کیسے جانیں گے؟ لیکن کوئی پوچھے کہ حضرت، امرءالقیس کو عرب کس کے وسیلے سے سمجھتے تھے؟ ہومر کو اپنی بات سمجھانے اور اپنے فن کا سکہ جمانے میں کسی کی مدد درکار ہوئی؟ حافظ شیرازی کے نغموں نے عوام کو کس ناقد کی شرحوں اور تجزیوں کے بعد مسحور کرنا شروع کیا؟ وارث شاہ کی اہمیت کس نکتہ شناس نے عوام کے ذہن نشین کروائی؟ باقی چھوڑیے، عرفیؔ، غالبؔ اور اقبالؔ وغیرہ کے دقیق خیالات اور دقیق تر لغتوں کے باوجود ان کی شہرہ آفاق نامداری ان کے اپنے علاوہ کن ناقدین کی احسان مند ہے؟

بات یہ ہے صاحبو، کہ ادیب مردہ شیروں کی طرح بے بس ہو چکے ہیں۔ وہ ناقدوں اور شارحوں کے محتاج ہو گئے ہیں۔ ناقدین جس طرح چاہتے ہیں ان کے فن پاروں کو چیرتے بھاڑتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں اور ادبا کو سہنا پڑتا ہے۔ جب ادیب طاقت ور ہوتا ہے تو اس کے فن کی سطوت و جبروت ناقدین کی ترکی تمام کر دیتی ہے۔ فن اپنے عروج کے دور میں کسی بھی ناقد کے بس سے بہت باہر کی شے ہوتا ہے۔ اس کا تجزیہ تو دور کی بات، تنقید کے وسائل اس کی گرد تک نہیں پا سکتے۔ لیکن اس کے ضعف کے عالم میں یہی قوت تنقید کے جیالوں کو منتقل ہو جاتی ہے۔

حلقۂِ اربابِ ذوق کے ایک اجلاس میں ایک صاحب موسیقی پر مضمون پڑھ رہے تھے۔ ناقدین کا ایک قیامت کی نظر رکھنے والا گروہ بھی گھات لگائے بیٹھا تھا۔ دیگر بیجا و بجا اعتراضات کے ہمراہ ایک ایسا اعتراض بھی سننے میں آیا جو میرے خیال میں عہدِ حاضر کی تنقید کا کامل آئینہ دار ہے۔ مضمون نگار نے اپنے مقالے میں کہیں "بے ہنگم شور” کا لفظ بھی استعمال  کیا تھا۔ اربابِ نظر اس ترکیب پر نہایت چیں بجبیں ہوئے۔ سوال اٹھایا گیا کہ وہ کونسا شور ہے جو بے ہنگم نہیں ہوتا؟ یا آیا کوئی ایسی بھی آواز ہے جو بےہنگم ہو اور شور نہ کہلا سکے؟ مجھے اس بات پہ حیرت تھی کہ یہ اہلِ علم اردو شاعری کی کلاسیکی تراکیب از قسم شبِ تاریک، حسنِ زیبا، روزِ روشن وغیرہ کی بابت کیا خیال رکھتے ہوں گے۔ مثلاً شب تو پہلے ہی تاریک ہوتی ہے لہٰذا تاریک کا لفظ ضائع کیوں کیا گیا؟ یا دن تو ہمیشہ روشن ہی ہوتا ہے اس لیے لفظ روشن کے استحصال کے خلاف تحریک چلائی جائے، وغیرہ وغیرہ۔

ادبی زبان حسین تکراروں کا ایک خوشگوار مجموعہ ہوتی ہے۔ اگران صنعتوں پر اس قسم کی عاقلانہ پابندی عائد کر دی جائے تو ادبی زبان کے ساتھ جو ہو گا سو ہو گا، مگر ایک ایسی زبان ضرور وجود میں آ جائے گی جس میں ہمارے اربابِ دانش کی نکتہ پردازیاں ریاضیاتی اسلوب سے بیان ہو کر غلط ثابت ہوا کریں گی!

2 آرا و خیالات “اردو ادب اور نقد و نظر”

تبصرہ کیجیے