یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں

یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں
مجھے دل بھی تو کم عزیز نہیں

ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹ جائیں پاؤں
منزلوں سے قدم عزیز نہیں

آپ اپنا بچاؤ کر لیجے
دل کو دل کا بھرم عزیز نہیں

مرگِ الفت کا خوف ہے ورنہ
جاں خدا کی قسم عزیز نہیں

حسن والوں کا پاس ہے راحیلؔ
ورنہ ہم کو ستم عزیز نہیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے

ایک رائے “یہ نہیں ہے کہ غم عزیز نہیں”