ناخوش نہیں تو خوش بھی محبت میں ہم نہیں

ناخوش نہیں تو خوش بھی محبت میں ہم نہیں
وہ وہ بھی ہیں ستم کہ بظاہر ستم نہیں

وہ مر گیا ہے جس کا تبسم ہے دائمی
وہ جھوٹ بولتا ہے جسے کوئی غم نہیں

اندر خدا نہیں تو خدائی میں ہو نہ خوار
دل ہی حرم نہیں تو حرم بھی حرم نہیں

اندھوں کو سبز باغ مبارک بہشت کے
اہلِ نظر کے واسطے دنیا بھی کم نہیں

منزل اسے سمجھیے بقائے دوام کی
عاشق مَرے تو راہئِ ملکِ عدم نہیں

اتنا بھی ناامید کسی سے نہ ہو کوئی
بیمار سوچتا ہے مسیحا میں دم نہیں

مجبور ہے غریب غلامی میں جسم کی
دل خود تو ورنہ طالبِ دام و درم نہیں

کل اس گلی میں کوئی جنھیں پوچھتا نہ تھا
راحیلؔ صاحب آپ وہی محترم نہیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے

3 آرا و خیالات “ناخوش نہیں تو خوش بھی محبت میں ہم نہیں”