حسرتیں گو کہ بےشمار نہیں

حسرتیں گو کہ بےشمار نہیں
دس نہیں سو نہیں ہزار نہیں

راہ میں بیٹھنے سے عار نہیں
ہائے پر تابِ انتظار نہیں

ہم تو نازاں ہیں عشق پر تیرے
بندگی وجہِ افتخار نہیں

میری سجدہ‌گزاریاں بھی دیکھ
نقشِ پا کوئی شاہ‌کار نہیں

عمر کاٹی ہے ایک وعدے پر
وعدہ وہ جس کا اعتبار نہیں

تیری تسخیر کے ہوئے درپے
جنھیں خود پر بھی اختیار نہیں

بےنیازِ تلافئِ مافات
غم فقیری ہے کاروبار نہیں

حالِ دل یادگار ہے راحیلؔ
عاشقی آپ یادگار نہیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے