زبانِ یارِ من یورپی

صاحبو، خدا کی تعلیم سے بڑی کوئی تعلیم نہیں ہے۔ اس نے عرب کے بدوؤں پر قرآن نازل کیا۔ ان کی اپنی زبان میں۔ کیونکہ انھی کی اصلاحِ احوال مقصود تھی۔ کتنی عجیب بات ہوتی کہ اس دور میں کوئی اور جزیرۃ العرب کے ان وحشی چرواہوں کو ایک مہذب قوم بنانے کا بیڑا اٹھاتا اور اس کارِ خیر کے لیے طریقہ یہ تجویز کرتا کہ انھیں پہلے مثلاً رومی زبان سکھائی جائے تا کہ یہ سلطنتِ رومہ کی عظیم تہذیب سے فیض حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ کیا خیال ہے عرب جوتے مار مار کے اس لال بجھکڑ کا سر پوپلا نہ کر دیتے؟

اللہ تبارک و تعالیٰ ایک احسان کے طور پر یہ ذکر کرتا ہے کہ ہم نے قرآن کو صاف، بلیغ عربی میں نازل کیا۔ وجہ یہ بیان فرمائی کہ تاکہ تمھیں سمجھنے میں آسانی ہو۔ قرآن تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی تعلیم ہے۔ اس کی اثرپزیری اور کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے فیض یافتگان چند دہائیوں کے اندر اندر ایک مردارخور، وحشی اور بدکار قوم سے اس تہذیب میں بدل گئے جس نے نہ صرف دنیا کے دوردراز کونوں تک اپنے جھنڈے گاڑے بلکہ اخلاق و کردار، علم و دانش، اور سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ کے میدانوں میں بھی بحیثیت ایک امت کے بےنظیر ٹھہرے۔

لمبی چوڑی بحث کو چھوڑیے۔ اسلام دینِ حنیف ہے۔ ہمارے نبیﷺ سیدنا حضرت ابراہیمؑ کی جسمانی و روحانی نسل میں سے تھے۔ عرب حضرت ابراہیمؑ کی اولاد سے بھرا پڑا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ اہلِ کتاب تھے یا اہلِ کتاب سے کسی نہ کسی طور سے ناتا رکھتے تھے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کا عبرانی وغیرہ سے گہرا تعلق تھا۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ اسی سلسلے کو قائم رکھتے ہوئے قرآن کو مثلاً عبرانی زبان میں نازل فرما دیتا اور مومنین کو حکم دیتا کہ وہ عبرانی سیکھ کر دین کا علم حاصل کریں؟

اللہ کی حکمتوں کو کون جانے؟ مگر ایک ظاہر و باہر بات تو یہی ہے کہ اس صورت میں زبان سیکھنا اکثریت کے لیے بجائے خود ایک مسئلہ بن جاتا۔ اور جو سیکھ لیتے ان کے لیے بھی اس میں وہ دلکشی اور معنیٰ خیزی پیدا نہ ہو سکتی جو ان کی مادری زبان عربی میں تھی۔ عین ممکن تھا کہ حکم کچھ ہوتا اور سمجھ کچھ اور لیا جاتا۔ زیادہ لطیف صورت یہ ہو سکتی تھی کہ درست سمجھ لیتے مگر دلنشین نہ ہوتا۔ عربوں کے لیے قرآنِ پاک کا عربی میں نازل ہونا ایک انعام اور احسان سے کم نہ تھا۔ اس کا ایک ایک لفظ وہ سمجھتے تھے۔ ایک ایک ادا سے آشنا تھے۔ ہر ہر استعارہ اور کنایہ گویا ان کے دل میں کھب جاتا تھا اور نکالے نہ نکلتا تھا۔ ابوجہل کے بارے میں مشہور ہے کہ چھپ کر قرآن سنتا تھا اور اس کے اعجاز کے چٹخارے لیتا تھا۔ کیا عبرانی وغیرہ کے سلسلے میں ایسا ممکن ہو سکتا تھا؟

لیکن صاحبو، ہم تو ان بدوؤں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ منہ چلانے کو اسلام کو کامل ضابطہ قرار دیتے ہیں۔ مگر اپنے نونہالوں کی تعلیم کے لیے زبان تک کا انتخاب سنتِ الٰہی کے مطابق نہیں کر سکتے۔ اسلام ہی کا ذکر نہیں، میرے مولا نے جب کسی قوم کی تعلیم کا ارادہ فرمایا، اس میں پیغمبر بھیجا یا کتاب نازل کی، انھی کی زبان انتخاب فرمائی۔ ہم کیسی بدقسمت قوم ہیں کہ اس صاف نظر آتی راہ سے بھی بھٹک گئے ہیں۔ سکولوں میں بچے انگریزی میں حساب سیکھتے ہیں، انگریزی میں جغرافیہ پڑھتے ہیں، انگریزی میں سائنس کا علم حاصل کرتے ہیں اور انگریزی میں معاشرتی علوم سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ جب نکلتے ہیں تو ان کے سرمائے میں نہ انگریزی ہوتی ہے، نہ یہ علوم اور نہ تعلیم۔ ایک سرٹیفیکیٹ اور اس کے ساتھ کھڑا اکیسویں صدی کا ایک گنوار، وحشی، اور جاہل بدو!

ایک رائے “زبانِ یارِ من یورپی”

تبصرہ کیجیے