سانحۂِ بہاولپور – طمانچے اور سوال

بچپن سے ایک پچھتاوا ساتھ رہا ہے کہ ہمارے والدین نے ہمیں اخلاقی طور پر کسی قدر مضبوط کر کے دنیا میں جینے کے لیے بہت کمزور کر دیا ہے۔ ہم اس قوم کا حصہ ہیں جس میں مرنے والے پر فاتحہ پڑھنے سے قبل اس کا بٹوا قبضے میں لینا بنیادی مہارتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ ان مہارتوں سے بے‌بہرہ لوگ لاکھ دین‌داری کی بین بجاتے رہیں، وہ احمق اور گاؤدی کہلاتے ہیں اور اکثر ثابت بھی ہو جاتے ہیں۔ زندگی میں کتنی بار ایسے موقعوں پر جب خلقِ خدا خلقِ خدا کو نوچ کھسوٹ رہی تھی اور ہم اپنی تربیت اور بزدلی پر صلوٰتیں پڑھ رہے تھے، ہمیں نطشےؔ کا فرمان یاد آیا کہ اخلاقیات کمزور کا ہتھیار ہے۔ کمزور بھی ایسے کہ اس ہتھیار سے جان چھڑا کر بھی طاقت‌ور نہیں ہونے والے!

مگر آج کچھ عجیب ہوا ہے۔ ہماری زندگی میں پہلی بار ہمیں اپنی کمزوری پر پیار آیا ہے اور چیرہ‌دستی کا شوق کافور ہو گیا ہے۔ ہم نے پہلی بار یہ مشاہدہ کیا ہے کہ مرگِ مفاجات صرف کمزور اور گاؤدی کا نصیب نہیں بلکہ بسا‌اوقات اچھے خاصے زمانہ‌شناس اور گرگِ باراں‌دیدہ قسم کے لوگوں پر بھی وارد ہو جاتی ہے۔ بہالپور کے قریب آئل ٹینکر کے الٹنے، عوام کے بالٹیاں لے کر دوڑنے اور پھر دھماکے میں جان دینے کا واقعہ عبرت‌ناک ہے۔ اس طمانچے نے ہمارے وہ سب خیالاتِ فاسدہ چلتے کر دیے ہیں جنھیں مارِ آستین کی طرح ہم پالنے پر بھی مجبور تھے اور ڈسے جانے پر بھی۔ اب ہمیں خود سے کوئی شکایت نہیں مگر اس قوم پر شدید غصہ ہے جو حکمرانوں سے حساب مانگتی ہے، عشقِ رسولؐ میں گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگاتی ہے، توہین کے مجرموں کو فیصلے کے لیے براہِ راست خدا کے پاس بھیجنے پر یقین رکھتی ہے، نفاذِ شریعت کے ذکر پر آب‌دیدہ ہو جاتی ہے، رمضانِ کریم میں اپنے اعتکاف کی خبریں نشر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی، محرم اور عید وغیرہ پر ذرائعِ ابلاغ کو یرغمال بنا لیتی ہے، اپنی نجات کو خدا کا وعدہ سمجھتی ہے اور اپنے علما کو پیغمبروں کے وارث قرار دیتی ہے۔

ہمیں غصہ ہے کیونکہ یہ قوم ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک حادثے کے بعد خدا کے قہر کے مقابل ہو کر اپنی حرص کا خراج وصول کرنے جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔ لوگ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں پر سوار ہو کر اس جگہ آئے تھے جہاں تیل کھیتوں میں پانی کی طرح بہ رہا تھا۔ یار لوگ تو پانی کی خاطر بھی جان لینے دینے پر اتر آتے ہیں، یہ تو پھر تیل تھا۔ جو بقولِ یارے امریکہ بھی نہیں چھوڑتا۔ مگر ہمیں غصہ ہے۔ آس پاس کے لوگ تیل اکٹھا کر لیتے تو کوئی بات بھی تھی کہ تیل اور کھیت دونوں کے نقصان سے بچت ہو جائے گی۔ یہ کیا کہ اردگرد سے لوگ یاجوج ماجوج کی طرح امنڈ پڑیں؟ ہمیں علم تو نہیں مگر قیاس کہتا ہے کہ فون ہوئے ہوں گے۔ خبریں نشر کی گئی ہوں گی۔ پیغامات بھیجے گئے ہوں گے کہ آؤ، بھائیو۔ لوٹ مچ گئی ہے۔ جس کے بازوؤں میں جتنا دم ہے، تشریف لائے اور اپنی جرأتِ کے موافق مالِ غنیمت اکٹھا کر لے۔

مبینہ طور پر یہ لوگ دیہاتی تھے۔ شعور سے عاری، علم سے بے‌بہرہ، شاید عقل سے بھی پیدل۔ غربت تو پھر ہم میں سے اکثر کی شناختی علامت ہے ہی۔ مگر کون نہیں جانتا کہ لوٹ مچنے کے بعد ہمارے دانش‌وروں سے لے کر وزرائے مملکت تک بھی سب یہی کیا کرتے ہیں۔ تو پھر کیا اس سانحے کو ایک بے‌ضمیر قوم کے منہ پر طمانچہ سمجھا جائے؟ ایک سوال کے طور پر لیا جائے کہ اب بولو، کیا تمھاری چالاکی اور معاملہ‌فہمی تمھیں خدا کے قہر سے بچا لے گی؟

یہ طمانچہ ہماری حکومت کے منہ پر بھی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس بار انھیں یہ الزام کسی کے سر دھرنے میں خاصی دقت پیش آ سکتی ہے۔ نہ کوئی دہشت‌گرد بظاہر ملوث معلوم ہوتا ہے، نہ عمران خان، نہ فوج، نہ ہندوستان۔ حکومت کو رخسار سہلاتے ہوئے یہ سوچنا پڑے گا کہ اب کے الزام کس کو دیا جائے؟ شاید ان عوام کو جن کا مینڈیٹ اس نے اپنے تاج میں سجا رکھا ہے؟ استغفراللہ!

میڈیا تو خیر سے وہ وہ بھانڈ ہے جو ہر تھپڑ کو مذاق میں لینے کا عادی ہے۔ مگر ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ قوم کی رہنمائی کرنے والے یہ سچائی کے پیغمبر اپنے عید کے پروگراموں، مجروں، فلموں، ناٹکوں اور تماشوں کو اتنے بڑے سانحے کے بعد کس نئے حیلے سے بتمام و کمال نشر کرتے ہیں۔ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ اس رنگ میں وقفے وقفے سے مگرمچھ کے آنسو بہا کر تھوڑی سی بھنگ شامل کی جائے گی مگر وہ ملغوبہ کیسا ہو گا یہ دیکھنے کے لیے کل کا انتظار ہے۔

فوج کا وقار طمانچوں کا سزاوار نہیں۔ پھر بھی ایک سوال اب ہم کر ہی لینا چاہیں گے۔ دنیا جانتی ہے کہ وطنِ عزیز کی اصل قوت کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاست‌دانوں کو ہمیشہ ان کی اوقات میں رکھنے اور حادثات کے فوراً بعد عوام کی مدد کو پہنچنے کے بین بین بھی کوئی راہ ہے جس میں یہ قوت کوئی سرگرمی دکھا سکے؟ مثلاً تعلیم، شعور، روزگار، صحت کے حوالے سے کوئی دیرپا اور عہدساز اقدامات؟ ایوانِ اقتدار اور جائے حادثہ کے درمیان کوئی میدانِ عمل؟ دشمن کے دانت کھٹے کرنے اور بھل‌صفائی کے بیچ کوئی کارنامہ؟ آخر اس حادثے میں آرمی پبلک سکول کے سانحے سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ کوئی امید رکھیں؟

عدلیہ سے ہم عوام بے‌چارے کیا کہیں۔ ان کے منہ پر طمانچے صرف اوپر سے لگ سکتے ہیں، نیچے سے نہیں۔ پھر ہمارا خیال ہے کہ سؤوموٹو پر بھی اب سؤوموٹو لے لیا گیا ہے لہٰذا زنجیر ہلانے سے اپنے دست و بازو کا امتحان ہو تو ہو ایوانِ عدل کے کنگرے نہیں گرنے والے!

7 آرا و خیالات “سانحۂِ بہاولپور – طمانچے اور سوال”

تبصرہ کیجیے