عشق ہو اور کوئی صورتِ اظہار نہ ہو

عشق ہو اور کوئی صورتِ اظہار نہ ہو
تُف ہے اسلوبِ غزل پر کہ فسوں کار نہ ہو

مزہ چکھ لے اسی دنیا میں اگر جنت کا
کون کافر ہے کہ ایمان سے بیزار نہ ہو

پھر تصور نے تراشے ترے بت شرک کیا
دید دشوار ہو پر اتنی بھی دشوار نہ ہو

کون سکھلائے سبق اس دلِ فتنہ جُو کو
اک ترا غم بھی اگر درپئے آزار نہ ہو

رہ گئے اب تو نہ ہونے کے برابر گو ہم
طبعِ نازک پہ تری یہ بھی کہیں بار نہ ہو

مجھے کچھ عار نہیں آپ کی البتہ ہے فکر
چاہتا ہوں کہ تماشا سرِ بازار نہ ہو

ہم گنہگار زمانے کو سمجھتے ہی نہیں
کوئی ہم سا بھی زمانے میں گنہگار نہ ہو

بیکرانی کوئی کس منہ سے بتائے اس کی
اپنی نیّا ہی محبت میں اگر پار نہ ہو

وہ بھی دل ہے کوئی جو جرمِ تمنا نہ کرے
وہ بھی دل ہے کوئی جو غم کا سزاوار نہ ہو

کیا ہے راحیلؔ اگر ہو نہ رسا نالۂِ دل
جنس انمول تبھی ہے کہ خریدار نہ ہو

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے

3 آرا و خیالات “عشق ہو اور کوئی صورتِ اظہار نہ ہو”