آئے ہیں تو اللہ کرے خوش خبری دیں

آئے ہیں تو اللہ کرے خوش خبری دیں
جیسے تو رفوگر ہیں کہیں ہونٹ نہ سی دیں

تعبیر خریدیں کہ نئے خواب خریدیں
دل بیچ کے آئے ہیں سو بولی تو بڑی دیں

میں بندہ بشر کاہے کو ہلکان ہوا جاؤں
پوری تو فرشتوں سے نہ ہوں تیری امیدیں

او ابلۂِ مسجد ارے او ابلۂِ مسجد
دوزخ کی وعیدیں نہیں جنت کی نویدیں

دل لیتے مگر آپ نگاہیں نہ چراتے
قلاش کو یاد آتی ہیں سودے کی رسیدیں

جنت سے نکالیں کبھی دوزخ سے ڈرائیں
دھوکا بھی وہی دیں ہمیں دھمکی بھی وہی دیں

کمبخت نے کس غم کا مزا چکھ نہیں رکھا
راحیلؔ کو سرکار سزا کوئی نئی دیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے