غلامستان

سرزمینِ وطن بھی خوب دیار ہے۔ نام کی پاک اور خمیر کی پاک پرست۔ اصل کے تو ہندوستانی ہی ہیں نا ہم۔ کہتے ہیں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ ہم بھی ہندو مت سے تائب تو جیسے تیسے ہو گئے ہندویت سے نہ گئے۔ کیا ہمارے سید، کیا افغان، کیا علما، کیا جہلا، کیا سجدہ گزار، کیا دین بیزار، کیا عوام، کیا خواص۔ سب کے سب دیو داس!

گو کہ غلاموں کے اس نخاسِ اعظم کی بوقلمونی اور تنوع کا منکر کوئی اندھا ہی ہو سکتا ہے مگر جیسا کہ دستور ہے ہم آسانی کے لیے اس منڈی کے مال کو دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ غلام ہیں جو خود کو علی الاعلان غلام مانتے ہیں اور اکثریتی طبقہ ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو غلامی کے طوق کو گریبان میں چھپا کر رکھنے کے قائل ہیں اور اقلیتی گروہ ہیں۔ پہلے لوگ کسی نہ کسی انسان کے پجاری ہیں اور دوسرے چڑھتے سورج کے۔

پہلا گروہ اہلِ مذہب کا ہے۔ مذہب کی بار بار دہرائی جانے والی کہانی بڑی سادہ ہے۔ ایک شخص آتا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں میں پستے ہوئے انسانوں کو خدا کے نظام کے مطابق چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ اور ایک مدتِ عمر کے بعد رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کے متبعین خدا کے نظام پر چلنے کے سبب کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔ ان کامیابیوں سے دنیادار لوگوں کے کان کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اس دین کو کاروباری موقع کے طور پر استعمال کرنے کی ترکیبیں سوچنے لگتے ہیں۔ پنڈت پیدا ہوتے ہیں، ربی قدم رنجہ فرماتے ہیں، پادری نازل ہوتے ہیں، مولوی تشریف لاتے ہیں۔ خدا کے نظام کی نظامت سنبھال لیتے ہیں۔ خلقِ خدا پھر پسنے لگتی ہے۔ رفتہ رفتہ معاشرہ وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔

تاریخ کے سبق بڑے سیدھے ہیں۔ جس طرح خدا نے ہر زمانے میں صرف ایک ہی سیدھی راہ دکھلائی ہے اسی طرح اس استحصالی طبقے کے لوگ بھی ہر دور میں بلااستثنا  ایک ہی دلیل سے کام لیتے آئے ہیں۔ وہ یہ کہ دین کو ہم جانتے ہیں، تم نہیں جانتے۔ اس لیے ہمارا حکم مانو۔ ہمارا اختیار تسلیم کرو۔ اس مقصد کے لیے یہ گروہ ایک پورا شجرہ تشکیل دیتا ہے جس میں علم کی درجہ وار منتقلی کا بیان ہوتا ہے۔اس کے آخری سرے پر وہ محسن، وہ مرشد، وہ ہادی، وہ نبی، وہ رسول موجود ہوتا ہے جس نے بےکس اور ناچار انسانوں کو خدا کے سوا ہر دنیوی آقا کو جھٹلا دینے کی ترغیب دی تھی۔ سب سے بڑا آقا، سب سے بڑا مولا خود اسی کو قرار دے دیا جاتا ہے اور فیض رسانی کے متعدد واسطوں سے گزار کر یہ سلسلہ اس ملا، پنڈت، پادری یا ربی کی ذاتِ بابرکات تک پہنچایا جاتا ہے جو ہر زمانے میں عوام کو اپنا غلام بنانے کے خواب دیکھتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستوں نے جب بھی جنگیں لڑی ہیں، مذہبی رہنماؤں کی خدمات لیے بغیر انھیں چارہ نہیں رہا۔ ریاست خوب جانتی ہے کہ اکابرینِ مذہب عوام کو تقدس اور تبرک کے نفسیاتی پھندے میں گرفتار کر کے نچانے کا جو ہنر صدیوں سے آزماتے آئے  ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی سیاست دانوں، سپہ سالاروں یا وطن پرستوں کے لیے ممکن نہیں۔

اب یہ سمجھنا آسان ہو گیا کہ اہلِ مذہب غلامی پر کیوں فخر کرتے ہیں۔ ان بیچاروں کی اکثریت کے فرشتے بھی نہیں جانتے کہ ان کا مذہب دراصل صرف خدا کی غلامی کے نام پر آیا تھا۔ وہ اپنے چیرہ‌دست علما کے دیے ہوئے “علم” کے مطابق یہی جانتے ہیں کہ ان کے نبی سے شروع ہو کر مقامی عبادت‌گاہ کے ملا، پنڈت، پادری وغیرہ تک پہنچنے والے روحانی شجرے کی ہر مقدس ہستی کی غلامی اصل دین ہے۔ پھر مزید تحریک کے لیے علمائے معاصر ازمنۂِ سابقہ کی ولولہ انگیز کہانیاں بھی سناتے رہتے ہیں جن سے یہی ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ جتنے جاں‌نثار غلام، اتنی ترقی۔ شکنجہ پوری طرح کسنے کے لیے سوالات اور عقل وغیرہ کے آزادنہ استعمال کو بھی گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اختلاف پر کفر اور کفر پر قتل کے حکم وارد ہوتے ہیں۔ نتیجتاً صرف ایمان نہیں بلکہ خود انسان کی بقا بھی اسی سے مشروط ہو جاتی ہے کہ وہ چپ چاپ خود کو غلام تسلیم کر لے۔

غلاموں کا دوسرا طبقہ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے چڑھتے سورج کا پجاری ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر کسی بھی قوم کی ذہنی شکست‌خوردگی کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ اپنی قوم اور اقدار کے زوال کے دنوں میں اپنے باپ دادا کا منکر ہو جانا ان کا پرانا وتیرہ ہے۔ دنیا کی ہر قوم میں پائے جانے والے غدار جو اپنے تئیں دشمن سے زیادہ مفاد وابستہ دیکھتے ہیں اسی طبیعت کے حامل افراد ہوتے ہیں۔ اپنی افتادِ طبع کے لحاظ سے یہ لوگ بھی گو کہ موقع پرست ہی ہوتے ہیں مگر عموماً اخلاقی اور سیاسی قوت کے فقدان کے سبب سازشوں کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان سازشوں میں نظریہ سازی سے لے کرپیٹھ میں چھرا گھونپنے تک ہر حیلہ بروئے کار لایا جاتا ہے۔ چونکہ گرگٹ کی طرح مختلف حالات میں یہ لوگ مختلف رنگ بدل کر استفادہ کرتے ہیں اس لیے ان کی نسبت اس سے زیادہ عمومی رائے دینا ممکن نہیں کہ یہ ہواؤں کا رخ بھانپ گدھے کو باپ بنانے کی ضرورت بھی محسوس کریں تو اخلاقی جوہر کے فقدان کے سبب اس میں قطعاً عار محسوس نہیں کرتے۔

اب یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کی منڈی میں ان غلاموں کے کیا طور اطوار ہیں۔ مذہبی غلاموں کا معاملہ تو کافی حد تک سیدھا سادہ ہے۔ یعنی ویسا ہی ہے جیسا تاریخ میں ہمیشہ رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اردگرد کی دنیا میں مذہبی غلامی کی شرح کافی حد تک کم ہو گئی ہے جس کے باعث اس زمانے میں یہ شدت ذرا زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ باقی دنیا میں اکابرینِ مذہب کو زیادہ تر پرانے زمانے کی یادگاریں قرار دے کر معبدوں میں بند کر دیا گیا ہے مگر ہمارے ملا ابھی تک کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسرائیل کے بعد جدید دنیا کا واحد ملک ہے جو ایک مذہبی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ اس کی بنا وطنیت کی بجائے عقیدے پر رکھی گئی۔ ملا کے لیے یہ موقع کافی تھا۔ رفتہ رفتہ اس نے اپنے پنجے اس حد تک گاڑ لیے کہ اب ریاستی کل کو مفلوج کرنے کے لیے اس کا صرف ایک اشارہ ہی کافی ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ خوش‌قسمتی سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ اس کے باشندے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو نہ صرف پوری دنیا سے عود کر آنے والے جہاں‌دیدہ، تعلیم‌یافتہ اور روشن‌دیدہ دماغ لوگ تھے بلکہ اکثر اقلیتوں کی طرح اپنے مذہب کی تعلیمات سے خود بھی اچھے خاصے واقف تھے۔ اس کے علاوہ بھی وجوہات رہی ہوں گی مگر ان کے تفحص کا یہ محل نہیں۔

پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور اس میں پچانوے فی‌صد سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ ان مسلمانوں کے کم از کم تہتر فرقے تو ہوں گے ہی۔ مگر لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے مشاہدے کے مطابق ایک بھی گروہ ایسا نہیں جو خود کو خدا کا غلام کہنے اور کہلانے پر فخر کرتا ہو۔ درآں‌حالیکہ ہمارے عقائد کے مطابق ناموں تک میں سب سے اچھے نام عبداللہ (اللہ کا غلام) اور عبدالرحمٰن (رحمٰن کا غلام) ہیں مگر ہمارا تفاخر اور ایمان بہرحال کسی نہ کسی انسان یا سلسلے کی حلقہ‌بگوشی ہی سے وابستہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے علما بھی اپنی حجت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر امتوں کے بگڑے ہوئے رہنماؤں کی طرح خذ ما صفا و دع ما کدر کے فلسفے سے پورا پورا کام لیتے آئے ہیں۔ رسول اللہﷺ کی تعلیم تو یہ تھی کہ تم میں سے ہر ایک اپنی ساری حاجتیں اور ضرورتیں اپنے رب سے مانگے، یہاں تک کہ جوتے کا تسمہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے بھی اللہ ہی سے مانگے۔  پھر ظاہر ہے کہ ہدایت جیسی بڑی دولت کے لیے تو سرے سے کسی کی غلامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جبکہ قرآن بھی جابجا پکار رہا ہے کہ اسے آسان کر دیا گیا ہے اور ہدایت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یعنی غلامی اگر ہے تو صرف اللہ کی۔ مگر مشکل یہ آن پڑی کہ اس صورت میں کاروبار کی گنجائش نہیں رہتی۔ استحصال کا جواز نہیں رہتا۔ حکومت نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے غلامی کو انبیا و اصفیا سے لے کر مسالک و مذاہب تک ہر چیز سے متعلق کر دیا گیا۔ سوائے خدا کے!

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اب یہ حالات ہیں کہ علما بیٹھے ہیں۔ پکار رہے ہیں کہ آؤ ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ رسول اللہﷺ بشر تھے یا نور۔ کس کے مسجد میں گھسنے کے بعد مسجد دھونی چاہیے اور کس کو خود دھونا چاہیے۔ کس کے جنازے میں شرکت کے بعد تمھاری بیوی خودکار طور پر مطلقہ ہو جائے گی۔ امیر معاویہؓ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ نماز کے لیے کھڑا ہوتے ہوئے تمھاری نیت ظاہر ہو گئی تھی یا باقاعدہ بول کر خدا کو ثبوت دینے کی ضرورت ہے؟ کسی وظیفے کو دن میں کتنی بار پڑھ کر تم پھر ویسے ہی معصوم  ہو جاؤ گے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے۔ جنت اور جہنم کے دروازوں کی تعداد اور دربانوں کے نام یاد ہیں؟ دو جہانوں سے بے نیاز اللہ تمھارے ہاتھ ناف پر باندھنے سے خوش ہوتا ہے یا سینے پر؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح حکومت بہت اچھی چلتی ہے اور الحمدللہ چل رہی ہے۔

دوسری جانب چڑھتے سورج کے پجاریوں نے پاکستان کے حالات و واقعات کے تناظر میں مغربیت کی جانب رجوع فرمایا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے یہ خود کو غلام نہیں کہتے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اہلِ مغرب غلامی کے خلاف ہیں۔ ان غلاموں کے موجودہ رویے کسی طور پر اہلِ مذہب سے مختلف نہیں۔ صرف قبلے کا فرق ہے۔ وہ بھی اتفاق سے دونوں ہی کا مغرب میں واقع ہوا ہے۔ شمال جنوب کے معمولی سے اختلاف کے ساتھ۔

ان بیچاروں کے اعصاب پر عظمتِ مغرب اس حد تک سوار ہو گئی ہے کہ یہ اپنی مقامی شناخت کو وقت کی تختی سے بالکل کھرچ دینے کے درپے ہیں۔ میں خود ان کا حصہ رہا ہوں اور ذاتی طور پر اس حد تک شدت پسند تھا کہ سماجی میل جول میں سلام کا طریقہ تک ترک کر دیا تھا۔ کم از کم دو تین سال شعوری طور پر میری یہ کوشش رہی کہ السلامُ علیکم کہنے کے مذہبی اور معاشرتی رویے سے خود کو مبرا کر لوں۔ گو عملی طور پر سب اس قدر جرأت مند نہیں مگر ذہنی افلاس اس گروہ میں ناقابلِ تصور حد تک ترقی کر چکا ہے۔

فی‌زمانہ غداروں اور زمانہ‌سازوں کا یہ طبقہ فلسفیانہ، نظریاتی اور دانش‌ورانہ قسم کی شناختیں رکھتا ہے۔ وجہ وہی کہ یہ سب اہلِ مغرب کا فیشن ہے۔ عقلیت اور خردافروزی کا ڈھول صبح و شام پیٹا جا رہا ہے اور ملک‌دشمن اور مذہب‌بیزار قوتوں کی دامے، درمے، سخنے مدد سے غلامانِ مغرب ملائے مسجد کے تصور میں بھی نہ آنے والی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ مگر کچھ اہلِ عقل ہی جانتے ہیں کہ یہ کس عقل کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ خود اکابرینِ مغرب کے سامنے ان کے دلائل اور رویے رکھے جائیں تو وہ شاید ان پر تھوکنا بھی گوارا نہ کریں۔ میں سمجھتا تھا کہ ضدی اور ڈھیٹ صرف کٹھ‌ملا ہوتے ہیں۔ اہلِ دانش سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بہت بعد میں معلوم ہوا کہ جس طرح کا سلوک ملا مذہب کے ساتھ کرتا ہے بالکل وہی کھلواڑ عقل کے ساتھ یہ نام‌نہاد عقلیت‌پسند کرتے ہیں۔

اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو غلامانِ صوفی و ملا وطنِ عزیز کے مستقبل کے لیے چھوٹا خطرہ ہیں۔ ان کی جبر و استبداد پر مبنی کہانی یوں بھی عدلِ فطرت کی رو سے زیادہ عرصہ نہ چل پائے گی۔ انھوں نے جو نقصان پہنچانا تھا وہ عملی تھا اور وہ یہ زیادہ تر پہنچا چکے ہیں۔ نوجوان طبقہ تیزی سے ان سے متنفر ہو رہا ہے اور اپنی بدحواسی کے نتیجے میں کی جانے والی اور زیادہ شدت سے یہ الٹا خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عالمی منظرنامہ ہر آن بدل جاتا ہے اور یہ ابھی کئی سو سال پچھلے فیصلے کرتے پھر رہے ہیں۔ ان کی قبر کھد چکی ہے اور وقت کھدیڑ کھدیڑ کر انھیں خود اس میں گرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ تھوڑے یا زیادہ انتظار کے بعد ہم بھی باقی دنیا کی طرح ملوکیتِ ملا سے آزاد ہو ہی جائیں گے۔

اصل اور بڑا خطرہ غلامانِ مغرب ہیں۔ یہ نہ صرف پوری سرگرمی سے کام کر رہے ہیں بلکہ مُلا کے پنجے سے چھوٹنے والے بسملوں کو یہ یقین دلانے میں بھی بہت کامیاب ہیں کہ متبادل بیانیہ صرف مغرب کے پاس ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق ہمارے نوجوانوں کے پاس ملائیت سے بیزار ہونے کے بعد اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ مغرب سے درآمدشدہ الحاد کو قبول کر لیں اور اس طرح حسبِ سابق غیراللہ ہی کی غلامی میں رہیں۔ یہ زیادہ بڑا خطرہ اس لیے ہے کہ آنے والا دور بظاہر فکری غلامی ہی کا معلوم ہوتا ہے جس کے لیے زمین اچھی طرح ہموار کر دی گئی ہے۔ گو عملی طور پر اب بھی مغرب‌زدگی غلامئِ ملا و صوفی سے کہیں زیادہ ہے مگر خدشہ ہے کہ خدانخواستہ یہ لوگ کامیاب ہو گئے تو ترکی کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر ہمارا رشتہ بھی ہمارے ماضی سے منقطع کر دیا جائے گا۔ اس کا نقصان یہ ہو گا کہ ہماری اسلامی اور پاکستانی شناخت کیا حقیقی کیا غیرحقیقی خاکم بدہن کسی بھی معنوں میں برقرار نہ رہ سکے گی۔ ہم پھرعملی طور ایک نوآبادی، ایک غلام قوم بن جائیں گے۔ مگر جدید دنیا کی۔ جس پر تسلط قائم رکھنے کے لیے شاید لشکرکشی کی نہیں بلکہ محض برقی اشاروں کی ضرورت پڑے گی۔

الغرض، آزادی وہ باوقار آزادی جو کائنات کے خالق و مالک کی بندگی سے نصیب ہوتی ہے اور مخلوق کے تمام علائق سے انسان کو بے‌نیاز کر دیتی ہے وطنِ عزیز کے ہجوم میں شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔ سب خانہ‌زاد ہیں۔ علانیہ۔ غیرعلانیہ۔ پاکستان بھی خوب دیار ہے۔ نام کا پاک اور خمیر کا پاک پرست!

تبصرہ کیجیے