کسی کو یاد آنا چاہتا ہوں

کسی کو یاد آنا چاہتا ہوں
نہ جانے کیا بھلانا چاہتا ہوں

رہا کیا ہے پرانے صومعوں میں
نئی تعمیر ڈھانا چاہتا ہوں

کوئی سودا کوئی وحشت نہیں ہے
مگر میں بھاگ جانا چاہتا ہوں

خدارا اے حیاتِ ممتنع! میں
ابھی ہنسنا ہنسانا چاہتا ہوں

کبھی کرتا ہوں اپنا پیرہن چاک
کبھی خود کو چھڑانا چاہتا ہوں

سنا کر بے‌ہئیت افسانے شاید
ہیولوں کو ہرانا چاہتا ہوں

جنوں کی آڑ کیوں لوں؟ سچ نہ کہہ دوں؟
تجھی کو آزمانا چاہتا ہوں

کوئی کشمیر کا مندر ہو راحیلؔ
کہیں مٹنا مٹانا چاہتا ہوں

تبصرہ کیجیے