دلیلِ آفتاب

خدا نے ہر عروج کو زوال رکھا ہے مگر ہر زوال کے نصیب میں عروج نہیں لکھا۔ کتنے چڑھے مگر اتر گئے۔ کتنے گرے، کچھ اٹھے، بہت رزقِ خاک ہو گئے۔

مجھے کم از کم اپنے محدود مطالعے کی بنیاد پر ایک بھی قوم ایسی نظر نہیں آئی جس نے اپنے عروج کو ماضی سے کشید کیا ہو۔ وہ لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں جو حال کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کو تو پوری دنیا نے دیکھا ہے جنھوں نے ماضی اور حال دونوں سے بےنیاز ہو کر مستقبل پر کمند پھینکی۔ میں نے قرآن، عہدنامۂ جدید اور عہدنامۂِ عتیق کو عصرِ نو کے ایک نیم‌خواندہ مگر دردمند انسان کی حیثیت سے پڑھا ہے۔ ان تینوں کی بنیادی تعلیم مجھے یہ معلوم ہوئی ہے کہ اپنے ماضی سے جان چھڑاؤ۔ اپنے باپ دادا کے من‌گھڑت افسانوں سے نکل کر دیکھو کہ خدا اور اس کا نظام تم سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔ آیاتِ تشریعی کی من‌چاہی تعبیروں سے حذر کرو اور اور آیاتِ تکوینی کی صورت میں چنگھاڑتے ہوئے خدا کے پیغام کو سنو۔

تاریخ کا مجھے علم نہیں۔ مگر جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں ایک بات سنتا آ رہا ہوں۔ وہ بات یہ ہے کہ مسلمان بے‌عمل ہو گئے ہیں۔ ہمارے زوال کا سبب ہماری بے‌عملی کے سوا کچھ نہیں۔ کچھ وقت اس بات پر یقین بھی رہا اور اپنے تئیں خود کو باعمل مسلمان بنانے کی کوشش بھی میں کرتا رہا۔ پھر کچھ سوالات کھڑے ہوئے۔ پھر بے‌راہروی پیدا ہوئی۔ پھر جوابات بھی ملنے لگے۔ میں واپس بھی پلٹ آیا۔ مگر بہت سے لوگ اب تک بھٹک رہے ہیں۔ میں آج انھیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں جو مجھے امتِ مرحوم کے زوال کے اصل سبب سے متعلق معلوم ہوئی۔

جھوٹ اور دجل و فریب کے پاس بہت حیلے سہی مگر سچ ایک اپنی ہی کشش اور جبروت رکھتا ہے۔ اس کے اسیر کسی اور پھندے میں گرفتار ہونے کے قابل کم ہی رہتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ خوش‌قسمتی سے کافی حد تک ہمارے سامنے ہے۔ ہم منہ موڑنا بھی چاہیں تو نہیں موڑ سکتے۔ نبیِ کریمﷺ نے جب تبلیغ کا آغاز فرمایا اور تشنگانِ حق ان کے ہم‌نوا ہونے لگے تو بے‌عملی کا واویلا کہیں سنائی نہیں دیا۔ کہیں بھی نہیں۔ لوگ آتے تھے۔ مسلمان ہوتے تھے۔ صعوبتیں برداشت کرتے تھے مگر دین کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔

قیصرِ روم نے ابو سفیان سے اپنے مشہور مکالمے میں پوچھا تھا کہ کوئی شخص محمدؐ کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے پھر بھی جاتا ہے؟ نفی میں جواب ملنے کے بعد اس نے یہ اصول بیان کیا تھا کہ حق کی حلاوت جسے نصیب ہو جائے وہ کبھی اس سے منحرف ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی فراست نے اسی بنیاد پر اسے باور کروا دیا تھا کہ یہ لوگ حق پر ہیں اور عن‌قریب اس کی قوم پر غالب آ جائیں گے۔

کتنے لطف کی بات ہے!

آج مسلمانوں کی اکثریت کے پاس ان کے اسلاف کی دی ہوئی اپنی ریاستیں موجود ہیں۔ ان کے پاس کلی اور حتمی اختیارات موجود ہیں کہ وہ اسلام پر عمل کریں۔ ان کے علما اقبالؒ کے الفاظ میں لغت ہائے حجازی کے قارون ہیں جن کے پاس تاریخوں، تفسیروں، تعبیروں اور تاویلوں کے انبار موجود ہیں۔ ان کے پاس وہ عوام ہیں جو بظاہر دین کے نفاذ کے لیے پاگل ہوئے ہوئے ہیں۔ مسلمان دنیا میں دوسری مگر سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی اکثریت ہیں۔

مگر دین پر عمل نہیں کر سکتے!

ہاہاہاہاہاہا۔ وہ کون سا سچ ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا؟ نبیِ کریمﷺ کا سچ تو ایسا نہ تھا۔یہ تو جھوٹ کی طے شدہ علامت ہے کہ اس کی کوئی عملی بنیاد نہیں ہوتی۔ سچ تو خود عمل کے لیے کھینچتا ہے۔ اتنی پرکشش چیز ہے کہ لوگ اس کے لیے ماریں کھاتے ہیں۔ مال لٹاتے ہیں۔ رسوا ہوتے ہیں۔ سولی چڑھ جاتے ہیں۔ مگر اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ وہ تو جھوٹ ہوتا ہے جس پر زبردستی عمل کرنا پڑتا ہے۔ بار بار زور لگانا پڑتا ہے۔ روز نئی دلیل گھڑنی پڑتی ہے۔ روز نیا بچاؤ کرنا پڑتا ہے۔ عمل پھر بھی نہیں ہو سکتا۔

جو آگ سے جل جائے وہ پھر ہوش میں کبھی بے‌سبب آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ کیونکہ آگ کی جلن سچ ہے، حق ہے۔ اسے چاہ کر بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر کسی سے کہا جائے کہ مثلاً لنڈی کوتل میں چمگادڑ فارسی بولتے ہیں تو بڑی دقت ہو گی۔ آپ کو روز نئی شہادتیں لانی پڑیں گی۔ نئے دلائل تراشنے پڑیں گے۔ زبردستی ایک عقیدہ اور عقیدت ٹھونسنی پڑے گی۔ اختلاف کی اجازت اٹھانی پڑ جائے گی۔ رد کرنے والوں کو قتل کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے کہ نافرمانوں کے سدِ باب کے لیے لنڈی کوتل کے گرد فصیل قائم کر کے ناکے بھی لگانے پڑ جائیں۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔ اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ مگر ہوتا پھر بھی وہی ہے کہ جاء الحق و زہق الباطل۔

مسلمانوں کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ اسلام پر عمل نہیں کرتے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اسلام نہیں ہے۔

تبصرہ کیجیے

2 آرا و خیالات “دلیلِ آفتاب”