ماں جی سے

کیوں جھگڑتی ہیں بے سبب، ماں جی؟
میں بڑا ہو گیا ہوں اب، ماں جی!

بھلے وقتوں کی آپ کی ہے سوچ
اب بھلا وقت ہی ہے کب، ماں جی؟

وہ زمانہ نہیں رہا، مانیں!
ہے یہی زندگی کا ڈھب، ماں جی

میں تو پھر آپ سے ہوا باغی
لوگ بھولے ہوئے ہیں رب، ماں جی

اندھے قانون کچھ ہیں فطرت کے
یہ خدا کا نہیں غضب، ماں جی

آپ نے بھی تو زندگی کی ہے
جانتی ہوں گی آپ سب، ماں جی

میں سمجھ لوں گا آپ کی باتیں
آپ جتنا بنوں گا جب، ماں جی

آپ بس یہ دعائیں میرے لیے
چھوڑیے گا نہ اب نہ تب، ماں جی

ہے تو بیٹا نا آپ کا راحیلؔ؟
لڑکے ہوتے ہیں بے ادب، ماں جی​!

 راحیلؔ فاروق

۲۰۰۹ء

تبصرہ کیجیے