حافظ

کچھ دن پہلے ایک کی بورڈ خریدا تھا۔ وہ کچھ گڑبڑ کر رہا تھا۔ واپس کروانا روز بھول جاتے تھے۔ آج وہ روزِ سعید تھا کہ بالآخر نکل ہی کھڑے ہوئے۔

دکاندار نہایت بااخلاق، دیانت‌دار اور شائستہ نوجوان ہے۔ اس نے بڑی محبت سے نیا کی بورڈ پیش کیا۔ ہم نے کہا کہ ہمارے فون کے لیے ایک آدھ چارجر بھی دے دو۔ تعمیل ہوئی اور ہم ادائیگی کر کے نکل آئے۔ پیچھے سے ایک غلغلہ بلند ہوا۔ ہڑبڑا کے دیکھا تو دکاندار کو کچھ اول جلول اشارے کرتے پایا۔ اب ہم اشارے سمجھتے ہوتے تو چوتھی شادی نہ کر چکے ہوتے؟

دوبارہ دکان میں داخل ہوئے کہ قضیے کی تفصیل معلوم کریں۔ پتا چلا کہ فون میز پر بھول گئے تھے۔ خدا کا شکر جس نے ہم بے‌بضاعتوں کو فون عطا کیا۔ ورنہ ہم خدا جانے چارجر سے کیا چارج کرتے؟

ایک جگہ بازار میں اور رکے۔ یہاں ادائیگی کرتے ہوئے اندازہ ہوا کہ پچھلے دکاندار کو ایک ہزار روپے دیے تھے اور اس نے غالباً پانچ سو سمجھ کر بقایا دے دیا۔ ہم نے بھی حسبِ عادت جو ملا الحمدللہ کہہ کر جیب میں ڈال لیا۔ اب کیا کریں؟ واپس پلٹے۔ دکاندار کو آگاہ کیا۔ اس بیچارے کے ذہن میں ہزار ہوتا تو پانچ سو کا بقایا ہی کیوں دیتا؟

کچھ دیر ایمان اور یادداشت کے مختلف پہلوؤں پر ہر دو طرف سے حسبِ توفیق روشنی ڈالی گئی۔ پھر دکاندار نے پانچ سو روپے نکال کے میز پر رکھ دیے۔ ہمیں بڑی شرم آئی۔ پیسے اسے واپس تھمائے، ہاتھ جوڑے اور گھر لوٹ آئے۔

گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ دروازہ کھلا چھوڑ گئے تھے اور اہلِ خانہ بوجوہ متوجہ نہ تھے۔ کچھ فقیرنیاں بغیر اطلاع کے وارد ہوئیں اور واپس نکل گئیں تو انھیں خبر ہوئی۔

اب سوچ رہے ہیں کہ خسارے کا حساب کریں مگر ہمارا حساب جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے ہمارے حافظے سے کچھ زیادہ اچھا نہیں۔

پس نوشت: چارجر کچھ گڑبڑ کر رہا ہے۔ بدلوانا پڑے گا!

تبصرہ کیجیے

ایک رائے “حافظ”