ہیر نہ آکھو کوئی

مادہ پرستی، فردیت پسندی اور سائنس کی چکاچوند روشنیوں سے چندھیائی ہوئی اکیسویں صدی کے ایک کم خواندہ، نیم شہری نیم قصباتی، عام سے شخص کو عشق کے بارے میں کیا کچھ معلوم ہو سکتا ہے؟

اگر ہوا و ہوس کی وبائی روش سے قطعِ نظر کر کے زندگی بدل دینے والے کلاسیکی تصورِ عشق کی بات کی جائے تو میرا خیال ہے کہ میں خوش قسمت ہوں۔ اس لحاظ سے کہ شاید مجھے میرے حصے سے زیادہ عشق میسر آیا ہے۔ میں نے عاشقی بھی کی ہے اور محبوبی بھی فرمائی ہے۔ مجھے عشق کو ہر دو لحاظ سے کچھ نہ کچھ پرکھنے کا موقع ملا ہے جس کے باعث میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ کم از کم اس نقار خانے میں ایک طوطی کی مسند پر بیٹھ جاؤں۔ کوئی سنے بھی، اس کے لیے طوطی کو مزید خوش نصیبی کی دعا کرنی چاہیے۔

کسی عورت سے میری زندگی کا والہانہ ترین عشق مجھے آج سے کوئی سات آٹھ برس پہلے ہوا تھا۔وہ مجھ سے ایک ڈیڑھ برس بڑی تھی اور مجھ سے پڑھنے آیا کرتی تھی۔ اپنے اندر ابلتے ہوئے لاوے کی تپش جب میرے دماغ تک پہنچی تو میں نے سلسلۂِ تدریس کو لات مار دی اور اس لڑکی سے ملاقات کا واحد ذریعہ بھی کھو دیا۔ لاوا ٹھنڈا ہونے کی بجائے امڈ کر باہر آ گیا اور میرے کاروبارِ حیات کو وہ آگ لگی جو آج تک بجھنے میں نہیں آتی۔ میں نے اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دیا۔ روزگار کو دھتا بتا دیا۔ وہ راہیں اختیار کیں جن سے مڑ کر زندگی کی شادابیوں کا رخ کرنا آسان نہیں۔ غرض وہ زندگی جو میں جی رہا تھا ختم ہو گئی اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔

اس زندگی میں نہ کامیابی تھی، نہ سکھ، نہ روزگار، نہ تعلیم، نہ ترقی، نہ تسلی۔ کچھ بھی ایسا نہیں تھا جسے میں دنیا والوں کے سامنے فخر سے پیش کر سکتا اور اس جواز کے سہارے جیتا رہتا۔

نہ گفتگو، نہ مداوائے غم، نہ دل داری
جنابِ دوست میں راحیلؔ بے سبب پہنچا

لیکن شاید آپ جانتے ہوں کہ عشق کے ثمرات ایک اور نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے جو ان دنوں مجھے میرے ایک دوست نے کہی۔ اس نے کہا، "راحیل، اس چھوکری نے تجھے انسان بنا دیا ہے!”

اس بات میں بڑی حقیقت ہے۔ اس سے پہلے تک میں ایک خود بین، متکبر، نسل پرست، شقی القلب اور بے حس انسان تھا۔ میرا دماغ بڑی سرگرمی سے چلتا تھا مگر دل برف کے ڈھیلے کی طرح پہلو میں جما رہتا تھا۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں انسان کیسے بنا اور کس سبب سے کون سا مسبب پیدا ہوا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس انقلاب کے پیچھے تھا وہی عشق۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے بازار میں کام کرنے والے ایک دبلے پتلے، کالے کلوٹے بچے کی مالی مدد شروع کر دی، اسے پڑھانے کی کوشش کی، اس کے لیے رویا، اس کے استاد سے اس کی سفارشیں کیں۔ وہ بچہ میرا محبوب ہو گیا۔ پھر مثلاً میں نے اپنی اکلوتی سائیکل، اپنے ذرائع آمد و رفت کی واحد آبرو اس شخص کو دان کر دی جو ہماری گلی میں آواز لگا کر بچوں کی چیزیں بیچا کرتا تھا۔ اس کی بیٹیاں شادی کی عمر میں تھیں اور اس کی سائیکل ایک حادثے کے بعد ناقابلِ مرمت ہو گئی تھی۔ میرے اس قسم کے رویے میرے گھر والوں اور خود میرے لیے نہایت غیر متوقع اور حیرت انگیز تھے۔ ان دنوں میں میرے والد فوت ہو چکے تھے، برادری نے مجھ سے قطعِ تعلق کر لیا تھا، دوستوں سے میں نے دوری اختیار کر لی تھی۔ میرا کوئی محسن، کوئی مرشد نہیں رہا تھا۔ اور ادھر میرے برفائے ہوئے دل میں حرارت سانس لینے لگی تھی۔ وہ ظالم دھڑکنا سیکھ رہا تھا۔ یہ عنایت عشق کی نہیں تھی تو کس کی تھی؟

لیکن میں ٹھہرا رنگین مزاج آدمی۔ بقولِ شخصے، مرا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا۔ میں گوری، کالی، موٹی، دبلی، دیسی، بدیسی، پڑھی لکھی، ان پڑھ، نوعمر، عمر رسیدہ، فلسفہ طراز، عشوہ باز ہر قسم کی خواتین پر فریفتہ ہوتا رہا۔ رفتہ رفتہ میرے دماغ کی ناؤ نے جذبات کے طوفانوں میں چلنا سیکھ لیا۔ مجھ پر جب بھی وارفتگی طاری ہوتی تو ذہن اس کے تجزیے کی کوشش کرنے لگتا۔ اس دوران میں مجھے معلوم ہوا کہ عشق عاشق پر کس قسم کے اثرات مرتب کرتا ہے۔

اب دوسری طرف دیکھتے ہیں۔جن عورتوں نے مجھ سے محبت کی وہ چار قدم آگے نکلیں۔لیکن میری بیوی شاید ان سب پر بازی لے گئی۔ وہ کینیڈا میں ایک اچھی ملازمت کر رہی تھی، اس نے شہریت حاصل کر لی تھی اور ایک ایسی زندگی گزار رہی تھی جس کا ہمارے ہاں لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ اس نے ان سب آسائشوں اور رنگینیوں پر لعنت بھیجی اور میری بے روزگاری، جذباتیت اور شکل کی پروا نہ کرتے ہوئے پاکستان آ کر ایک غیر معروف قصبے میں میرے ساتھ بس گئی۔ اس فیصلے کے کشٹ وہ آج تک اٹھا رہی ہے اور ماشاءاللہ بڑی مطمئن ہے۔

میری دیگر عاشقاؤں نے بھی حسبِ توفیق دادِ وفا دی۔ ان میں ایسی بھی تھیں جن کے تذکرے اخباروں میں چھپتے ہیں اور ایسی بھی جن کا علم اور عمل مویشیوں کو چارہ ڈالنے، دیواریں لیپنے اور سینے پرونے وغیرہ تک محدود ہے۔ کسی نےگھر تیاگا۔ کسی نے سماج میں رسوائیاں جھیلیں۔ کسی نے اپنی تعلیم برباد کی۔ کسی نے مالی خسارے اٹھائے۔ کسی نے گریۂِ نیم شبی اور مناجات وغیرہ سے اپنے اور میرے گناہ معاف کرائے۔ غرض جس سے جو کچھ ہو سکا، اس بیچاری نے کمی نہ کی۔

صاحبو، یہ ایک عام انسان کے عام سے معاشقوں کی نیم سوقیانہ داستانیں ہیں۔ مجھے تو عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی کی سیڑھی بنانے کا بھی دعویٰ نہیں۔ لیکن مجھے عشق نے کیا کیا نہیں سکھایا؟

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے، رخِ زرد کے معنی سیکھے
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈ لاتے ہوئے آتے ہیں
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
(فیضؔ)

مجھے معجزات پر یقین عشق نے دلایا۔ میں دہریہ تھا۔ مجھے عشق نے اول اول مادے سے ماورا قوتوں کا ادراک بخشا۔ ہجر کی طویل راتوں میں ایک محبوبانہ سرگوشی گونجتی تھی اور کوئی سندیسہ چھوڑ جاتی تھی۔ بعد کو معلوم ہوتا تھا کہ بات حرف بحرف سچی تھی۔ میری ایک محبوبہ کے ملاقات کو آنے سے پہلے میرے کپڑوں سے وہ خوشبو پھوٹ نکلتی تھی جو وہ لگایا کرتی تھی۔ یہ میرا پاگل پن نہیں تھا۔ اور لوگ بھی اس مہک سے متحیر رہ جاتے تھے۔ میری بیوی کے میری زندگی میں آنے سے مہینوں پہلے ایک روشن خواب نے مجھے حالات کی کروٹ سے آگاہ کر دیا تھا۔ یعنی ایسے ایسے حوادث وقوع میں آئے کہ میری سرکش عقل کے پرخچے اڑ گئے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ ان معاشقوں کے دوران میں میں نے اپنا جائزہ لینا بھی کسی قدر شروع کر دیا تھا۔ اس سے بھی مجھ پر بڑے حیرت انگیز انکشافات ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ عاشق جب عشق کرتا ہے تو یہ ایک قسم کی نفیِ ذات ہے۔ عشق میں اس کی اپنی ذات و صفات کے نقش پھیکے پڑنے لگتے ہیں اور محبوب کی عادات اور رویوں کا رنگ اس پر چڑھنے لگتا ہے۔ عاشق ہنستا ہے تو اس میں محبوب کی ہنسی کی کھنک سنائی دیتی ہے۔ روتا ہے تو محبوب کی آہ گونجتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ بولتا ہے تو محبوب کی زبان اور لہجے کا لوچ جھلکتا ہے۔ چلتا ہے تو دیکھنے والوں کو محبوب کی چال یاد آتی ہے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ صورت تک میں محبوب کی شباہت ڈیرے ڈال لیتی ہے۔ مجھے میری روایات اجازت دیتیں تو میں کچھ تصویریں آپ کو دکھاتا اور بتاتا کہ میرے ساتھ کھڑی ہوئی لڑکی سے میرا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو اچنبھا ہوتا۔

رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
سدو نی مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی

(رانجھا رانجھا کرتی ہوئی میں خود رانجھا ہو گئی۔ سکھیو، مجھے رانجھا ہی پکارو، ہیر مت کہو!)

مجھے معلوم ہوا کہ عاشق شقی اور بے حس نہیں ہو سکتا۔ اس کا دل بہت رقیق اور نازک ہوتا ہے۔ اس سے ظلم اور قہر کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے شبنم سے یہ امید رکھی جائے کہ وہ کاروبارِ چمن کو خاکستر کر دے گی۔ شاید اسی لیے دنیا بھر کی لوک داستانوں اور شاعری وغیرہ میں رقیبوں، ناصحین اور دشمنانِ محبت کو برا بھلا تو کہا گیا ہے مگر کسی عاشق کے لیے عموماً یہ بات روا نہیں سمجھی گئی کہ وہ انھیں جان سے مار ڈالے۔ اس قسم کی قساوت و شقاوت مالیخولیا کا شاخسانہ تو ہو سکتی ہے، عشق کا ثمرہ نہیں۔

میں نے سیکھا کہ عشق کرنے والے کے دل میں کبر و ریا اور نفرت و نخوت کا گزر نہیں ہو سکتا۔ چوٹ کھا کھا کر گداختہ ہوئی ہوئی روح خود کو ظاہر کے کسی سنگھاسن پر بٹھانے سے ابا کرتی ہے۔ عشق اور اختلالِ ذہن میں یہ فرق ہے کہ عاشق پہلے سے بہتر انسان بن جاتا ہے اور مختل پہلے سے بھی بدتر انسان۔ پھر میں نے مولوی رومیؒ کی مثنوی دیکھی اور میرے دل نے تصدیق کی کہ وہ سچ کہتے ہیں:

ہر کرا جامہ ز عشقے چاک شد
او ز حرص و عیب کلی پاک شد
شاد باش اے عشقِ خوش سودائے ما
اے طبیبِ جملہ علت ہائے ما
اے دوائے نخوت و ناموسِ ما
اے تو افلاطون و جالینوسِ ما
جسمِ خاک از عشق بر افلاک شد
کوہ در رقص آمد و چالاک شد

(جس کسی کا لباس عشق نے تار تار کیا وہ ہوس اور عیب سے بالکل پاک ہو گیا۔ اے ہمارے پیارے جنون والے عشق، اے ہمارے تمام امراض کے طبیب، اے ہمارے تکبر اور جھوٹی غیرت کے علاج، اے ہمارے افلاطون اور جالینوس، تو سدا خوش رہے۔ مٹی کا جسم عشق کی بدولت آسمانوں پر پہنچ گیا۔ عشق وہ قوت ہے کہ اس کے طفیل بے حس و بے شعور پہاڑ ناچ اٹھا اور باشعور ہو گیا۔)

صاحبو، آگے کیسے کہوں۔ میں ایک عامی، دل پھینک، بدکردار شخص۔ میرا عشق تو کبھی اس جہانِ رنگ و بو کی نیرنگیوں سے باہر نہیں نکلا۔ میرے محبوبوں کی اور میری قامت بہت کوتاہ ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات۔ لیکن بڑی ذات کا عشق تو اور بھی بڑا ہوتا ہو گا۔ ذرا سیرتِ نبویﷺ کی کوئی کتاب اٹھائیے۔ چند صفحے پڑھ جائیے۔ جب ذاتِ گرامی کا ایک تاثر دل و دماغ پر قائم ہو جائے تو ذرا یہ ویڈیو (18+) دیکھیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان دنوں وطنِ عزیز کی پارلیمان کے سامنے عشقِ رسولﷺ کے سلسلے میں جمع ہیں۔

روایت ہے کہ قیس نجدی از خود رفتگی کے عالم میں کسی نمازی کے آگے سے گزر گیا۔ نمازی نے نماز باطل ہونے کے خیال سے قیس کو مارا۔ قیس نے کہا، "مجھے لیلیٰ کے خیال نے ہوش و خرد سے اس قدر بیگانہ کر دیا تھا کہ میں تجھے محوِ عبادت دیکھ نہ سکا۔ لیکن تجھے تیرے رب کی حضوری نے کیونکر وارفتہ نہ کیا اور تو مجھے دیکھتا رہا؟”

میرا سوال بھی کم و بیش یہی ہے۔ میں مار کھانے سے پہلے یا بعد میں ان عاشقانِ رسولﷺ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے تو عام انسانوں سے دل لگی نے بھی اتنا کچھ سکھا دیا۔ یہ کیا ہوا کہ صاحبِ لولاکﷺ کا عشق آپ کو کچھ بھی نہ سکھا سکا؟

5 آرا و خیالات “ہیر نہ آکھو کوئی”

تبصرہ کیجیے