قلاش

وقت میں لت پت
سمتوں کے افلاس کو اوڑھے
چلتا جاتا ہوں
گئے دنوں سے بیگانہ
جب وجدان کی زنجیروں سے
گتھم گتھا ہو کر
عشق نبھانا چاہا تھا
استمنا بالفکر — استمنا بالید —
اپنی گویا رگیں نچوڑ کے رکھ لی تھیں
سمجھ رہا تھا
چپچپے خون میں دھلتا دھلتا
پھسل ہی جاؤں گا
اب کے نکل ہی جاؤں گا
جان لیا تھا
جان لیا!

چلتا جاتا ہوں
تب کی جانب
جب میری ننگی معشوقہ
بھاگ بھاگ کے تھک جائے گی
جھول جائے گی راہ‌زنوں کی بانھوں میں
بھدی سچائی!
قلاش حقیقت!
ہرجائی!
تب پھر سے ڈھونگ رچائے گی
تب پھر سے سوانگ بھرا چاہے گی
مدھر مدھر، کومل کومل
راگ الاپتی ہو گی
اور — لٹیرے
اپنی لوٹ پرکھ لیں گے
ادھر ادھر دیکھیں گے
چیخ نہ پائیں گے
روتے رہ جائیں گے!

خواب، خواب، یہ ننگے خواب!
میں روتا رہ جاتا ہوں
چیخ نہیں پاتا!

راحیلؔ فاروق

۲۰۰۸ء

تبصرہ کیجیے