لے جو بیگم حساب، ہنستا ہے

(بندہ کی ایک غزل کی تحریف از یکے از برادرانِ یوسف)

لے جو بیگم حساب، ہنستا ہے
تیرا خانہ خراب، ہنستا ہے؟

اک تو کھاتا ہے خود اکیلے ہی
اور کھا کر کباب، ہنستا ہے

اُس کو مرہم لگا کے بولیں "وہ”
دے کے مجھ کو جواب ہنستا ہے

ہے پریشان دیکھ کر چاندی
پھر لگا کر خضاب ہنستا ہے

"آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی”
اب تو دل بے حساب ہنستا ہے

فیس بک ہی بہت ہے تابشؔ کو
دیکھ کر یہ کتاب ہنستا ہے

محمد تابشؔ صدیقی

ایک رائے “لے جو بیگم حساب، ہنستا ہے”

تبصرہ کیجیے