اے خوشا وہ لمحہ عاشق کا قلم جب سر ہوا

اے خوشا وہ لمحہ عاشق کا قلم جب سر ہوا
بجھ گئی ہجراں کی آگ اور دل کا صحرا تر ہوا

کیا عجب بخشے ہی جائیں اس سعادت کے سبب
کافروں کا آج پھر چرچا سرِ منبر ہوا

میری حالت پر نظر مت نامہ بر! کر، یہ بتا
یار کا کیا حال میری داستاں سن کر ہوا

صورِ اسرافیل تو ایک استعارہ ہے فقط
آہ سے عورت کی ہو گا جب بپا محشر ہوا

مجھ سے بہتر کون جانے غم کی عظمت کو کہ میں
دل ہوا، دلبر ہوا، ناظر ہوا، منظر ہوا

خوش رہے راحیلؔ جو غم سے چھڑا دامن گئے
بھول جاؤ تم بھی ان کو جو ہوا بہتر ہوا

راحیلؔ فاروق

10 آرا و خیالات “اے خوشا وہ لمحہ عاشق کا قلم جب سر ہوا”

تبصرہ کیجیے