حسن پر عشق کا اثر کر دوں

حسن پر عشق کا اثر کر دوں
آ، تجھے چوم کر امر کر دوں

رات کیا شے ہے طُور کے آگے؟
ایک جلوہ دکھا، سحر کر دوں

سب سمجھتا ہوں، چاہتا ہوں مگر
غلطی جان بوجھ کر کر دوں

نہ کروں مر کے داستاں انجام
زندگی عشق میں بسر کر دوں

دل میں امید کی جگہ کم ہے
تیرے غم کو ادھر ادھر کر دوں؟

سرخ پھولوں کا ذوق، اُف اللہ
چیر دوں دل، لہو جگر کر دوں

کچھ تو ایسے گناہ ہیں، راحیلؔ
عاقبت جان لوں مگر کر دوں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے