رباعی

مقصودِ مساعی کو سمجھتے ہی نہیں
اوزانِ سباعی کو سمجھتے ہی نہیں
میں ہوں کہ مجھے صاف نہ کہنا آیا
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!

راحیلؔ فاروق

۲۰۰۶ء

تبصرہ کیجیے