تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح

تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح
ہم نے ڈالی ہے نئی ایک روانی کی طرح

ڈھلتے ڈھلتے بھی غضب ڈھائے گیا ہجر کا دن
کسی کافر کی جنوں خیز جوانی کی طرح

ایسی وحشت کا برا ہو کہ ہم اپنے گھر سے
گم ہوئے خود بھی محبت کی نشانی کی طرح

ننگے سچ قابلِ برداشت کہاں ہوتے ہیں؟
واقعہ کہیے تو کہیے گا کہانی کی طرح

پاس رکھیں تو ملال، آگ لگائیں تو ملال
دل بھی ہے کیا کسی تصویر پرانی کی طرح

عشق ہے مدرسۂِ زیست کی اکھڑی ہوئی اینٹ
ہمہ دانی کی طرح، ہیچ مدانی کی طرح

یہ غزل حضرتِ راحیلؔ کی ہے، دھیان رہے
آپ پوشیدہ ہیں لفظوں میں معانی کی طرح

راحیلؔ فاروق

2 تبصرہ جات: “تنگ ندی کے تڑپتے ہوئے پانی کی طرح”

تبصرہ کیجیے