ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا

ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا
کسی روز محشر بپا کر دکھا

جفا دے رہی ہے سبق ضبط کا
ادھر ابتدا اور ادھر انتہا

مبارک ہو سرکار میں مر چلا
مبارک ہو دل آپ کا ہو گیا

تری شکل وحشی نے کیوں دیکھ لی
دل اب مجھ کو صحرا میں لے جائے گا

بھلا ہو ترے مخبروں کا مگر
مرا حال خود بھی کبھی دیکھ جا

اسے دیکھ کر بات کیا کیجیے
مگر واہ وا، واہ وا، واہ وا!

یگانہ ہوں میں اور زمانہ ہے تو
اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا؟

خدا شاعری کی سمجھ دے اسے
غزل میں تو راحیلؔ سب کہہ دیا

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے