یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے

یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
اس تردد میں تکلف نظر آتا ہے مجھے

آپ کہتے ہیں کہ میں صبر نہیں کر سکتا
دل تو کچھ اور ہی افسانہ سناتا ہے مجھے

پیرِ گردوں کی عنایت ہے کہ دن اچھے ہیں
تلملاتا ہے تو تارے بھی دکھاتا ہے مجھے

بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے

ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے

سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے

تجھ سے بڑھ کر تو یہ دربان ستمگر نکلا
ہائے ظالم تری چوکھٹ سے اٹھاتا ہے مجھے

جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟​

استقامت اسے چھو کر نہیں گزری راحیلؔ
کبھی عاشق، کبھی دیوانہ بتاتا ہے مجھے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے