وقت بیتا محبت پرانی ہوئی

وقت بیتا محبت پرانی ہوئی
جو کہانی نہ تھی وہ کہانی ہوئی

وقت کی ناؤ کے ناخدا ہم نہ تھے
رہ گئی جی ہی میں جی کی ٹھانی ہوئی​

ہُو کا عالم ہے کیوں دل کی اقلیم میں؟
کس شہنشاہ کی حکمرانی ہوئی؟​

تھی غمِ رائگانی کی فرصت کسے؟
آرزو میں بسر زندگانی ہوئی​

سر اٹھایا نہ جنبش لبوں کو ہی دی
گفتگو دھڑکنوں کی زبانی ہوئی

دل یونہی دشمنِ جاں نہیں ہو گیا
کوئی مَنّت ہے کافر نے مانی ہوئی

مفت پائی نہیں دولتِ بےخودی
کوچے کوچے کی ہے خاک چھانی ہوئی

دے دیا تھا دلِ فتنہ گر بھی اُسے
پھر بھی راحیلؔ غارت جوانی ہوئی

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے