لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے

لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے
سرکار مگر آپ تو ایسا نہ سمجھتے!

سب حشر اٹھائے ہوئے امید کے ہیں، کاش
بیگانہ سمجھتے تجھے اپنا نہ سمجھتے

اب دیکھ لیا ہے تو مکرتے نہیں ورنہ
ہم لوگ تو اس حسن کو افسانہ سمجھتے

یعنی کہ ستم کو بھی کرم جان کے خوش ہوں
دیوانہ سمجھتے مگر اتنا نہ سمجھتے

حافظؔ کے تصوف نے کیا شیخ کو گمراہ
میخانے کو حضرت ہیں صنم خانہ سمجھتے

سمجھانے کو کوڑا نہ اگر عشق کا ہوتا
راحیلؔ میاں خاک بھی واللہ نہ سمجھتے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے