وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟

وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟
ناصح جان کے لاگو ہو تو عشق کی فرصت کس کو ہے؟

پاس رکھو یا آگ لگا دو، میری بلا سے لے جاؤ
جو کم بخت کے تیور ہیں اس دل کی ضرورت کس کو ہے؟

قبلہ و کعبہ، واعظِ دوراں، حسنِ بیاں کی ہو گئی حد
حوروں کے تو قصے پڑھے ہیں دیکھا حضرت! کس کو ہے؟

میری حالت غور سے دیکھو صاف پتا چل جائے گا
کس کو ہے آزار کا سودا؟ پاسِ مروت کس کو ہے؟

کون صفائی مانگ رہا ہے؟ کس کو جور عزیز نہیں؟
چھیڑ کی بات الگ ہے، پیارے! ورنہ شکایت کس کو ہے؟

غم کا مداوا شدتِ غم سے اچھا اور نہیں راحیلؔ
فرقت میں جو ہوش گئے ہیں اب غمِ فرقت کس کو ہے؟

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے