پہلے شرما کے مار ڈالا — بیدمؔ وارثی

پہلے شرما کے مار ڈالا
پھر سامنے آ کے مار ڈالا

ساقی نہ پلائی تو نےآخر
ترسا ترسا کے مار ڈالا

عیسیٰ تھے تو مرنے ہی نہ دیتے
تم نے تو جِلا کے مار ڈالا

بیمارِ الم کو تو نے ناصح
سمجھا سمجھا کے مار ڈالا

خنجر کیسا؟ فقط ادا سے
تڑپا تڑپا کے مار ڈالا

یادِ گیسو نے ہجر کی شب
الجھا الجھا کے مار ڈالا

فرقت میں تیرے غم و الم نے
تنہا مجھے پا کے مار ڈالا

خنجر نہ ملا تو اس نے بیدمؔ
آنکھیں دکھلا کے مار ڈالا

بیدمؔ شاہ وارثی

تبصرہ کیجیے