تم مجھے بھول جاؤ گے صاحب

تم مجھے بھول جاؤ گے صاحب
ہائے کیا بھول پاؤ گے صاحب

میں شریف آدمی مجھے چھوڑو​
خود کو کیا منہ دکھاؤ گے صاحب

تم نہیں مانتے مناتا ہوں​
میں نہ مانوں مناؤ گے صاحب

تم تو خود شعلہءِ فروزاں ہو​
آگ کیسے بجھاؤ گے صاحب

دل تو زندہ نہ ہو سکے گا اب​
کتنے محشر اٹھاؤ گے صاحب

​میری حالت ہے دیکھنے والی​
دیکھنے بھی نہ آؤ گے صاحب

خود سے بھی بڑھ کے جانتا ہوں تمھیں​
مجھے کیا کیا بتاؤ گے صاحب

کتنی پیاری ہیں یہ گہر آنکھیں​
انھیں کب تک چراؤ گے صاحب

مان جاؤ کہ عشق ہے راحیلؔ​
کتنی باتیں بناؤ گے صاحب

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے