بحورِ نوزدگانہ

عروض میں انیس بحروں کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے۔ گو کہ کچھ عروضیوں نے ان کے سوا بھی بحریں متعارف کروانے کی کوشش کی ہے مگر وہ بار نہ پا سکیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہے کہ ان انیس بحور پر زحافات کے عمل سے تقریباً کسی بھی وزن کا استخراج ممکن ہے لہٰذا نئی بحور کی ضرورت کالعدم ہو جاتی ہے۔

ان بحور میں سے پندرہ خلیل بن احمد عروضی کے ذہنِ رسا کا نتیجہ ہیں جبکہ چار کا سہرا مختلف عجمی علما کے سر ہے۔ فارسی میں انھیں بحورِ نوزدگانہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور انھیں مستحضر کروانے کے لیے کسی شخص نے ایک قطعہ کہہ رکھا ہے جو مولوی عبدالحق صاحب نے قواعدِ اردو میں نقل کیا ہے۔ عروض کی کسی اردو کتاب میں یہ قطعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ بعض فارسی ویب گاہوں پر دیکھنے میں آیا ہے مگر انٹرنیٹ کی اردو گو دنیا غالباً ہنوز اس سے لاعلم ہے۔

قطعہ گو کہ اصلاً فارسی ہے مگر اردو فہموں کے لیے کچھ ایسا دشوار نہیں۔ کل دو یا تین فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا مفہوم اہلِ اردو جانتے ہیں۔ لہٰذا میں نے چاہا کہ دلچسپی رکھنے والے احباب کے استفادے کے لیے اسے یہاں پیش کیا جائے۔

ملاحظہ کیجیے:

رَجَز، خَفِیف و رَمَل، مُنسَرِح دگر مُجتَث
بَسیط و وَافِر و کامِل، ہَزَج، طَوِیل و مَدِید
مُشاکِل و مُتَقَارِب، سَرِیع و مُقتَضَب است
مُضارِع و مُتَدَارِک، قَرِیب و نیز جَدِید

تبصرہ کیجیے