تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو

تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو
اب عشق ہو گیا ہے، میری بلا سے جو ہو

سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!”

نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو

ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو

مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!

کوچے میں جو بظاہر فریاد ہے گدا کی
شاید وہ سب سنانا مقصود آپ کو ہو

کرتے ہیں بات اس سے، کہتے ہیں حال تیرا
ٹک دم چھری تلے لے، راحیلؔ! صبح تو ہو

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے