توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے

توڑ ڈالیں قلم تو بہتر ہے
نہ لکھیں رازِ غم تو بہتر ہے

یوں بھی ہم کو نہ چھوڑے گی دنیا
آپ کر لیں ستم تو بہتر ہے

کفر ہے ہم اگر تمھیں چاہیں
لوگ پوجیں صنم تو بہتر ہے

عشق مرتا تو کم ہی ہے لیکن
عشق مارے بھی کم تو بہتر ہے

داد ملتی ہے وہ سنیں نہ سنیں
آہ کا زیر و بم تو بہتر ہے

نہ کرو توبہ دل دکھانے سے
اب نہ ٹوٹے قسم تو بہتر ہے

دل کا قصہ وہی قدیمی ہے
نہ سنیں محترم! تو بہتر ہے

منزلیں اب بھی دور ہیں راحیلؔ
اب تو مر جائیں ہم تو بہتر ہے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے