معنوی ربط کے اعتبار سے الفاظ کی اقسام

آج ایک دوست کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انھوں نے کسی کے حوالے سے پوچھا کہ چوری (بمعنی دزدی مشتق از چرانا) کا متضاد کیا ہے۔ متضاد الفاظ کے متعلق اسی قسم کے استفسارات جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اکثر سامنے آتے رہے ہیں۔

معنوی ربط کے اعتبار سے میری رائے میں الفاظ کی چار اقسام زبان میں ممکن ہیں۔ مترادف، متضاد، متمم اور مجرد۔

۱۔ مترادف:

یہ وہ الفاظ ہیں جن کا مفہوم قریب قریب ایک جیسا ہوتا ہے۔ جیسے دن اور روز، سورج اور آفتاب وغیرہ۔ ماہرینِ لسانیات کی اکثریت یقین رکھتی ہے کہ کوئی دو الفاظ بالکل ایک مفہوم کے ممکن نہیں۔ قریب قریب ہی کے ہوتے ہیں۔ اگر بالفرضِ محال بعینہٖ ایک معنیٰ کے ہوں تو انھیں مترادف کی بجائے مرادف کہا جائے گا۔

۲۔ متضاد:

ایسے الفاظ جو ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مثلاً کالا اور گورا یا دن اور رات۔

۳۔ متمم:

ایسے الفاظ جو ایک دوسرے کے متضاد نہ ہوں بلکہ ان کے مابین ایک قسم کا لزوم یا جوڑے کا سا تعلق پایا جاتا ہو۔ جیسے میاں بیوی، باپ بیٹا، کھانا پینا۔ پہلی مثال سے واضح ہو گیا ہو گا کہ اسمائے مذکر و مؤنث اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے ایسے الفاظ کو متمم کا نام انگریزی لفظ complement کی مناسبت سے دیا ہے جو مجھے ان کے باہمی تعلق کے لیے مناسب ترین معلوم ہوتا ہے۔

۴۔ مجرد:

یہ وہ لفظ ہیں جن کے متضاد یا متمم نہیں پائے جاتے۔ مثلاً تمباکو، وقت، کاغذ، گنتی وغیرہ۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر شے کی ضد بنفسِ نفیس موجود نہیں۔اکثر ضدین ایک مخصوص تناظر میں پیدا ہوتے ہیں اور ان کے لیے زبان میں کوئی لفظ اس حوالے سے مخصوص نہیں ہوتا۔ چوری اسی قسم کا ایک لفظ ہے۔ یہ دراصل ایک واقعہ ہے جس کا الٹ محض اس واقعے کا نہ ہونا ہے۔ مگر خاص اس واقعے یعنی چوری کے نہ ہونے کے لیے الگ سے کوئی لفظ شاید ہی دنیا کی کسی زبان میں موجود ہو۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی لفظ سے متعلق کسی اور لفظ کی تلاش ہے تو پہلے تو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس کا متضاد ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو متضاد کی بجائے متمم کی ضرورت ہو۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بھی کوئی لفظ نہ ہو اور آپ کے زیرِ غور لفظ مجرد ہو۔ یعنی اس کی ضد اور جوڑا دونوں ہی موجود نہ ہوں۔ مترادفات کی تلاش البتہ بےخرخشہ کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ تقریباً ہمیشہ میسر آ جاتے ہیں۔

لفظ بےوقوف کی جمع اکثر بےوقوف اور بعض عقل مند بھی پوچھتے ہیں۔ اس لفظ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ یہ دراصل اسمِ صفت (adjective) ہے جو اردو محاورے میں اکثر بطور اسم (noun) کے بھی استعمال میں آتا ہے۔مگر ہے تو اصل کا اسمِ صفت ہی۔ بےانتہا، بےپایاں، بےضرر وغیرہ کی طرح اس کی جمع بھی اردو میں ممکن نہیں۔ نسبت کے لیے البتہ اردو محاورے میں "بےوقوفوں” یا ندا کے لیے "بےوقوفو” وغیرہ کہا جاتا ہے۔

ویسے اگر آپ سفید، چمکدار، پرمزاح وغیرہ کی جمع کے بغیر گزارا کر سکتے ہیں تو اس کے بغیر کون سی قیامت ٹوٹی پڑتی ہے؟

2 تبصرہ جات: “معنوی ربط کے اعتبار سے الفاظ کی اقسام”

تبصرہ کیجیے