وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی

وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی
ایسا دھواں ہوا کہ لگا تو بھی تو نہ تھی

تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی

وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی

منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی

راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے