دے تلے آسمان نے مارا

دے تلے آسمان نے مارا
مجھ کو میری اُٹھان نے مارا

دل کی دنیا کو یاد لُوٹ گئی
یہ جہان اس جہان نے مارا

تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا

آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا

دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا

عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا

حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا

راحیلؔ فاروق

 

تبصرہ کیجیے