مشاعرے اور تحسینِ فن

انسان کی زندگی کا شاید ایک ہی محرک ہے۔ اپنی شناخت قائم کرنا۔ جو کلام کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ پہچانا جائے۔ جو چپ رہتا ہے اس لیے رہتا ہے کہ بولنے والوں سے ممتاز رہے۔ جو عمارت اٹھاتا ہے اس لیے اٹھاتا ہے کہ یاد کیا جائے۔ جو گراتا ہے اس لیے گراتا ہے کہ اس کی فوقیت ثابت ہو جائے۔ جو کاروبار کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ نمایاں ہو جائے۔ جو عشق کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ اپنی ذات کی تکمیلِ اصلی میں اس سے مدد لے۔ اور تو اور صدیقِ اکبرؓ جیسا شخص بھی گھر کا تمام سامان اسی غرض سے پھونک ڈالنے پر آمادہ ہوتا ہے کہ حیاتِ ابدی میں سب سے سرفراز رہے!

اپنی ذات کے ادعا (assertion) کی یہ کاوشیں تب تک بےثمر ہیں جب تک خارج سے ان کا ردِ عمل پیدا نہ ہو۔ یعنی کرنے والے کو یہ نہ بتا دیا جائے کہ وہ کامیاب ہو گیا ہے۔ اپنی شناخت قائم ہونے کی اطلاع بدقسمتی سے انسان کو اپنے اندر سے نہیں مل سکتی۔ یہ خبر باہر والے ہی دیتے ہیں خواہ وہ اس جہان سے ہوں یا اس جہان سے۔ اور جب تک یہ خبر نہ ملے انسان اور اس کے کمالات اس مور اور اس کے ناچ کی طرح ہیں جو جنگل میں رقصاں ہو۔

فنکار اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے عام لوگوں سے زیادہ لطیف ذرائع سے کام لیتا ہے اور زیادہ منفرد کارنامے سرانجام دینے پر قادر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی توقعات بھی عوام الناس کی بہ نسبت بلند تر ہوتی ہیں۔ مگر یہ توقعات پوری کرنے کے لیے معاشرے نے ایک استثنائی مثال کے سوا کبھی توجہ دینی مناسب نہیں سمجھی۔ کبھی کوئی ایسا باقاعدہ نظام یا ادارہ تشکیل نہیں دیا گیا جس کی مدد سے فنکار کو یہ باور کروایا جا سکے کہ اس کی ایک جداگانہ شناخت ہے جس پر صرف اسی کا حق ہے۔

میرا ایمان ہے کہ اہلِ مشرق نے اور بالخصوص مللِ اسلامیہ نے دنیا کو بہت کچھ ایسا دیا ہے جس کی کماحقہ قدرشناسی کا وقت شاید ابھی نہیں آیا۔ انھی میں سے ایک مشاعرہ بھی ہے۔ یہ وہ استثنائی مثال ہے جس میں ہمارے معاشرے نے شاعروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی مساعی دوسروں کے سامنے پیش کرنے اور داد و تحسین وصول کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مصوری کی نمائشیں اس کو نہیں پہنچتیں کیونکہ ان میں لازمی تعریف ایک قدر کے طور پر موجود نہیں۔ موسیقی کی محافل سے اس کا مقابلہ نہیں کیونکہ ان میں بڑے اور چھوٹے فنکار ایک ہی مسند پر بیٹھ کر اظہارِ فن کا شرف نہیں پاتے۔ فنِ تعمیر اور مجسمہ سازی سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی نمائشیں اس درجے کے ارتقا کو شاید مستقبل میں بھی نہ پہنچ سکیں۔

میں مشاعرے کو ہمارے معاشرے کے ایک ادارے کی حیثیت دیتا ہوں۔ یہ ایک پورا نظام ہے، کوئی الل ٹپ اجتماع نہیں۔ اس کی اپنی اقدار ہیں جن سے انحراف کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اپنا لائحۂِ عمل ہے جس سے وابستگی شرکا میں ایک طرح کے ثقافتی، معاشرتی، ملی اور نفسیاتی شعور کو بیدار کرتی ہے۔ اپنے مقاصد ہیں جنھیں یہ بہرصورت کچھ نہ کچھ پورا کرتا رہتا ہے۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں فنکار کی قدرشناسی اور حوصلہ افزائی کا ایسا بہترین بندوبست نہ صرف یہ کہ کیا نہیں گیا بلکہ کیا جائے گا بھی تو اس پر ہمارے مشاعروں کی چھاپ یقیناً نظر آئے گی۔ اس کی وجہ بہت صاف ہے۔ مشاعروں نے ہمارے فنکار کی شناخت قائم کرنے اور اس کی تسکین و تالیفِ قلب میں جو کردار ادا کیا ہے وہ اتنا بھرپور ہے کہ اس سے بڑھ کر کیا معاشرتی کیا انفرادی کسی بھی سطح پر ممکن نہیں۔ یعنی شاعر کی تحسین اکثر اتنی زیادہ کی گئی ہے کہ اس کا حق نہیں تھا۔ اس سے زیادہ کوئی اور نظام کرے گا تو کیا کرے گا؟

لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مشاعروں اور محافلِ شعر خوانی میں کی جانے والی تعریف و توصیف سطحی اور منافقانہ ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے۔ مگر میں اسے اپنے سماج کی خوبی خیال کرتا ہوں کہ اس نے فنکار کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر صورت میں کچھ نہ کچھ داد کو لازم کردیا ہے۔ داد ہمارے مشاعروں میں ایک قدر کی حیثیت رکھتی ہے اور جو لوگ اس سے احتراز کرتے ہیں ان پر آنکھیں اٹھتی ہیں۔ وہ مشاعرے کے ماحول سے ہم آہنگ معلوم نہیں ہوتے اور شاید خود بھی اپنے آپ کو کسی قدر اجنبی محسوس کرتے ہوں۔ اس اصول سے استثنا صرف بزرگ اور استاد شعرا کو حاصل ہے جن کی خاموشی پر لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں اور سر کی معمولی سی جنبش پر پہلو سے نکل جاتے ہیں۔ کہنہ مشق فنکاروں کی بھی اس سے اچھی قدر کیا ہو سکتی ہے؟

پھر لوگ کہتے ہیں کہ اچھے اور برے شاعر میں داد کی بنیاد پر امتیاز کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ میں بھی اسے اس نظام کی خامی خیال کرتا ہوں۔ اقبالؒ نے کہا تھا کہ اردو شاعری کو مشاعروں نے برباد کر دیا گو زبان کو فائدہ پہنچایا۔ اچھے اور برے شعرا کی تقریباً ایک ہی طرح سے ستائش کی وجہ دو باتوں میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ ایک تو عوام کی ادبی معیارات سے جہالت اور دوسرا مشاعرے کا نظام اخلاق۔ مشاعرے میں چونکہ عوام کی شمولیت ناگزیر ہوتی ہے اور ان کا ذوق پست ہوتا ہے اس لیے شعرا کی درست قدرفہمی کی امید ان سے نہیں کی جا سکتی۔ البتہ خود عوام کو اور معاشرے کو ضرور اس صورت میں فائدہ پہنچ جاتا ہے کہ وہ مشاعرے سے زبان کے خوب صورت، رنگین اور احساس سے بھرپور استعمال کے نئے نئے رنگ سیکھتے ہیں۔ اس لیے شعرا پر یہ لازم ہے کہ وہ کم از کم زبان کے معاملے میں ضرور احتیاط سے کام لیں۔ معاشرے اور مشاعرے دونوں نے انھیں حرف و صوت کے امین کی گدی دے رکھی ہے جس کا پاس ان پر فرض ہے۔ جہاں تک نظامِ اخلاق کے اثر کا تعلق ہے تو اس پر ہم بات کر چکے ہیں۔ مشاعرے میں کوئی شاعر داد لیے بغیر اٹھ جائے تو وہ شرمندہ ہو یا نہ ہو، شرکائے مشاعرہ کا دل ضرور برا ہو جاتا ہے۔ اسی اخلاقی قدر کا پاس بعض اوقات اس انتہا پر جا کر کیا جاتا ہے کہ اچھے اور برے شاعر کا فرق اٹھ جاتا ہے۔

مشاعرے کی دیگر اقدار اور روایات کا ذکر شاید کچھ ایسا ضروری نہیں۔ مگر اتنا کہنا لازم ہے کہ جس طرح شاعری میں اصناف کی اپنی شرائط طے کر لی جاتی ہیں اسی محبت اور لطافت کے ساتھ ہمارے مشاعرے بھی شمعِ محفل سے لے کر پاسِ مراتب تک کچھ معیارات کی پاسداری کرتے چلے آئے ہیں۔ ان معیارات میں کچھ نہ کچھ تبدیلی وقت کا اقتضا ہے مگر اچھی بات ہو گی کہ اس تبدیلی کا رخ مثبت ہی رہے۔ ہمیں چاہیے کہ مشاعروں کی خامیوں کو دور کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کریں مگر انھیں تنقیدی مجالس کا بدل ہرگز نہ سمجھیں۔ نیز اپنے معاشرے کی اس فن پروری پر نازاں ہوں نہ کہ شرمندہ!

تبصرہ کیجیے