میں کہاں ہوں کوئی بتلاؤ مجھے

میں کہاں ہوں کوئی بتلاؤ مجھے
کھو گیا ہوں کوئی لے آؤ مجھے

کچھ بھی معلوم نہیں ہے کب سے
خبر اپنی کبھی دے جاؤ مجھے

میں بھی دیوانہ نہیں تھا آخر
کاش سمجھو تو نہ سمجھاؤ مجھے

مرحمت عشق ہوا ہجر ہوا
اب عطا صبر بھی فرماؤ مجھے

میں نہیں چشمِ سیہ ہے مخمور
ہوش ہے ہوش میں مت لاؤ مجھے

میں ہوں آئینہ تمھارے غم کا
دیکھنا دیکھ اگر پاؤ مجھے

عشق کچھ کھیل نہ نکلا راحیلؔ
پڑ گئے الٹے مرے داؤ مجھے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے