تجھے دل میں چھپائے پھرتا ہوں

تجھے دل میں چھپائے پھرتا ہوں
سینہ مسجد بنائے پھرتا ہوں

نہ کریدو کہ مختصر نہیں بات
داستانیں چھپائے پھرتا ہوں

کچھ تو منکر نکیر جانے بھی دیں
بوجھ آخر اٹھائے پھرتا ہوں

میں نے کب بندگی کا وعدہ کیا
میں مکرتا ہوں ہائے پھرتا ہوں

میں کہاں میں رہا ہوں اب لوگو
خود کو خود سا بنائے پھرتا ہوں

دل کہاں رہ گیا ہے سینے میں
آگ سی اک لگائے پھرتا ہوں

وہی نکلی ہے داستاں سب کی
میں جو اپنی بنائے پھرتا ہوں

بھولنے والے وہ نہیں راحیلؔ
انھیں عمداً بھلائے پھرتا ہوں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے