دل نکلتا ہے جان سے آگے

دل نکلتا ہے جان سے آگے
شاہِ من کچھ امان سے آگے

اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے

آبلہ پا نکل نہ جائیں کہیں
منزلِ بےنشان سے آگے

ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے آگے

کیوں مسافر ٹھہر نہیں جاتا
کچھ تو ہے اس مکان سے آگے

اس کے انجم بھی دیکھ اس کے بھی
ہے زمین آسمان سے آگے

سن کے آئے ہیں مہربان کا نام
چارہ گر مہربان سے آگے

ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے

سر جھکا کر خموش بیٹھا ہوں
کیا کہوں رازدان سے آگے

تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے