بےبہا نکتے بےصدا باتیں

بےبہا نکتے بےصدا باتیں
دلربا لوگ دلربا باتیں

ابتدا کس قدر حسین ہوئی
ہم غزل آپ واہ وا باتیں

منتہائے کلام کیا کہیے
سرِ لب ہو گئیں فنا باتیں

بات کرتے ہیں اور جانتے ہیں
نہیں باتوں سے مدعا باتیں

دوستی دشمنی کا فیض ہے ایک
دم بدم ذکر جابجا باتیں

ہائے کیا آدمی کے ہونٹوں سے
تو بھی کرتا ہے اے خدا باتیں

ان کو معلوم کیا نہیں راحیلؔ
ان سے مل کر کریں گے کیا باتیں

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے