مار ڈالا تری محبت نے

مار ڈالا تری محبت نے
جان لے لی وفورِ نعمت نے

کتنے جذبوں کے سر خرید لیے
دل کی دنیا میں غم کی دولت نے

خون کا رنگ آنکھ میں پکڑا
عشق کی بےنشان عظمت نے

جب نہ سمجھا تو سب غلط سمجھا
دل کو کافر کیا ہدایت نے

کیوں عزازیلِ وقت کیا گزری
کیا دیا آپ کو عبادت نے

عشق افسانوی ہی اچھا تھا
دلکشی چھین لی حقیقت نے

آگ دکھلا کے دل کو اپنے تئیں
مات دے دی ہے ضو کو ظلمت نے

ہم بھی اہلِ کرم ہیں اہلِ کرم
بھیک منگوائی ہے ضرورت نے

مسکراہٹ کمال ہے راحیلؔ
کیا کیا دل کے ساتھ حضرت نے

راحیلؔ فاروق

ایک رائے “مار ڈالا تری محبت نے”

تبصرہ کیجیے