فرمائیں تم سے عشق تو نیکی کمائیں کیا

فرمائیں تم سے عشق تو نیکی کمائیں کیا
دنیا میں مل گئے ہو تو جنت میں جائیں کیا

ہو جب زمانہ حسن کا ایمان سے کہو
عاشق مزاج لوگ زمانے سے پائیں کیا

فرقت کے روز و شب کی کہانی نہ چھیڑیے
یہ لازوال دکھ ہے سنیں کیا سنائیں کیا

اچھی ہوئی بری ہوئی ہونی تو ہو گئی
اب کیا کریں خدا کو کٹہرے میں لائیں کیا

مرنے کو اِس گلی میں بلایا گیا ہمیں
راحیلؔ اگر بلائے نہ جائیں تو آئیں کیا

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے