اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا

اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا
پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا

اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں
معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا

دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے
جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا

تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو
میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے گا

راحیلؔ ہم تو یوں بھی نمازی نہیں رہے
کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا !

راحیلؔ فاروق

تبصرہ کیجیے